اکثر سیاسی جماعتیں گروہی بقاء کیلئے مصلحتوں کا شکار ہیں ،لشکری رئیسانی

10 جولائی ، 2022

مستونگ(پ ر) بلوچستان پیس فورم کے سربراہ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کو درپیش بحرانوں، محکومیوں کے خاتمہ کا حل علم کے آئینہ میں تلاش کیا جائے، افراتفری میں اکثر سیاسی جماعتیں گروہی بقاء کیلئے مصلحتوں کا شکار ہیں ،کردگاپ میں لائبریری کا قیام ناگزیر ہے ،لائبریری کیلئے جگہ فراہم کی جائے، کتابیں اور دیگر لوازمات بلوچستان پیس فورم فراہم کریگا۔ یہ بات انہوں نے ہفتے کے روز کردگاپ کمپلیکس کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر نوابزادہ میر رئیس رئیسانی ودیگر بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ نوابزادہ حاجی میرلشکری خان رئیسانی نے علم کے میدان میں کردگاپ کے طلباء وطالبات کے تیزی سے آگے بڑھنے کو حوصلہ افزاء وخوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ کردگاپ میں لائبریری کا قیام ناگزیر ہے ،علاقے کے لوگ لائبریری کیلئے جگہ فراہم کرنے میں پہل کریں لائبریری کیلئے مطلوبہ کتابیں بلوچستان پیس فورم فراہم کریگا۔ انہوں نے کہا کہ لائبریری کے قیام سے کتاب پڑھنے کے رجحان میں مزید اضافہ ہوگا اور لوگ اپنی علمی صلاحیت میں اضافے کیلئے کتابوں سے رجوع کریں گے جس کے کردگاپ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں کتاب بینی کا رجحان پروان چڑھے گا۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان اور یہاں کے لوگوں کو آج جن بحرانوں کا سامنا ہے ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگ ان بحرانوں کا حل علم کے آئینہ میں تلاش کرکے محکومی سے نکل کرتعلیم یافتہ اقوام کی طرح باعزت وباوقار انداز میں آئندہ زندگی گزاریں۔ انہوں نے کہاکہ افراتفری کے اس ماحول میں سیاسی جماعتیں گروہی بقاء کیلئے مصالحتوں کا کا شکار ہیں ، صوبے کی اجتماعی قومی بقاء کی طرف کوئی سیاسی جماعت توجہ نہیں دیں رہی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بلوچستان میں نام نہاد سیاسی ایکٹرز کو ڈائرین کئی گئی پالیسی کے تحت بلوچستان کی سیاست پر مسلط کیا گیا ہے یہ لوگ بلوچستان کی اجتماعی قومی بقاء کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے طلباء ، سیاسی کارکنوں اورعلاقہ عمائدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بحیثیت ایک قوم کتاب اور علم کیساتھ اپنا رشتہ جوڑیں تاکہ ہماری آئندہ نسلیں ،سیاسی قیادت علم و کتاب کی مالک ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ موحودہ حالات میں ہم جس افراتفری سے گزررہے ہیں اس سے نکلنے کا واحد راستہ علم ہی ہے جس کے ذریعے ہم اپنے صوبے اور سماج کو بحرانوں اور افراتفری سے نکال سکتے ہیں۔