اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مضبوط دفاع کے بغیر ترقی ناممکن ہے،چین کیساتھ ملکر آگے بڑھیں گے پاکستان چین کیساتھ اپنی دوستی اور تعاون کو مزید نئی بلندی پر لے جانے کی توقع رکھتا ہے، چینی کے صدر شی کے تجربے سے سیکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک انٹرویو میں کیا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف کا ترک صدر رجب طیب اردوان اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ٹیلی فونک پر رابطہ ہوا جس میں رہنمائوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا کہ بدلتے ہوئے بین الاقوامی منظرنامے کے باوجود، پاکستان اور چین مضبوطی سے ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں ، عوامی تبادلوں میں نئی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے اور پاکستانی عوام کودوطرفہ تعاون سے فائدہ ہورہا ہے۔شہبازشریف نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی میں بڑی مدد ملی ہے اور یہ کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) اس منصوبے کا ایک اہم پائلٹ پراجیکٹ ہے۔ سی پیک کے پہلے تعمیراتی مرحلے سے پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری ہوئی ہیں اور پاکستان چینی جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری ملک میں لانے اور صنعت سازی کو فروغ دینے کیلئے کوشاں ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (جی ڈی آئی) اور صدر شی جن پھنگ کی طرف سے تجویز کردہ گلوبل سیکورٹی انیشیٹو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جی ڈی آئی تمام ممالک کیلئے خوشحالی اور ترقی کے حصول میں مدد کیلئے اہم مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ چین کے مجوزہ جی ڈی آئی کا ایک عظیم مقصد ہے، جو عالمی امن اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کریگا اور یہ کہ سکیورٹی کے بغیر کسی قسم کی ترقی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان چین کے ان دونوں اقدامات کا بڑا حامی ہے اور مستقبل میں اس حوالے سے ہونے والے اجلاسوں میں فعال شرکت کا منتظر ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ مضبوط ارادے اور وسیع وژن کے حامل وژنری رہنما ہیں۔ وہ صدر شی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔علاوہ ازیںوزیراعظم شہباز شریفنے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور حکومت اور عوام کی جانب سے ترک حکومت اور عوام کو عید الاضحیٰ کی مبارکباد پیش کی۔ صدر اردوان نے بھی پاکستان کی حکومت اور عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار اور بلوچستان میں تباہ کن سیلاب کے متاثرین کیلئے دعا بھی کی اور آزمائش کی اس گھڑی میں پاکستان کے لئے اپنی حکومت کی مستقل حمایت کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور دیگر اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔دونوں رہنماؤں نے عالمی توانائی اور خوراک کے بحران سے نمٹنے کیلئے تعاون بڑھانے سمیت علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ وہ ستمبر 2022 میں پاکستان میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اسٹرٹیجک کوآپریشن کونسل کے 7ویں اجلاس میں صدر اردوان کے استقبال کے منتظر ہیں۔ دورہ سے دونوں برادر ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کومزید وسعت ملے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مملکت بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے بھی ٹیلی فونک گفتگو کی اور عید کی مبارک باد دی۔ شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ نے دونوں ممالک کے عوام کے مفاد کے لیے باہمی تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان اور بحرین کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں جن کی جڑیں مشترکہ ایمان، باہمی افہام و تفہیم اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔ وزیراعظم نے سابق سینیٹر کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی کی وفات پر رنج و غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرنل (ر)طاہر حسین مشہدی کی ملک و قوم کیلئے خدمات تادیر یاد رکھی جائیں گی، اللہ تعالی مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔
کراچی بھائی کے عطیہ اسٹیم سیلز سے مریض ایچ آئی وی سے نجات پانیوالا پہلا شخص بن گیا۔ بھائی کے نایاب جینیاتی...
کراچی ایف بی آئی سربراہ کاش پٹیل اپنی پوزیشن پر غیر یقینی صورتحال اور نوکری جانے کے خوف کا شکارہیں ،بعض...
واشنگٹن ایران کے ساتھ جاری جنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک بڑی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے: معیشت۔ سات...
اسلام ا ٓبا د بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور واپڈا کے گریڈ 17تا 22 ملازمین کے گھروں کی فری بجلی ختم کردی گئی۔ ان...
کراچی نیتن یاہو نے اشاروں میں لبنان محاذ پر ناکامی کو تسلیم کر لیا۔ حزب اللہ بدستور برقرار، شمالی سرحد کا...
کراچی آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے اہلکاروں کو خوراک کی کمی ، واشنگٹن کی تردید، امریکی جہازوں پر خوراک...
بغداد سربراہ قدس فورس اسماعیل قاآنی کا بغداد پہنچ کر عراقی قیادت سے اہم مشاورت، خطے کی کشیدگی، عراق کی...
کراچیمقبوضہ مغربی کنارے کے غیر قانونی الحاق کے منصوبوں پر برطانوی قانون سازوں نے اسرائیل پر سخت پابندیاں...