بلوچستان میں بارش اور سیلاب سےمزید 3افراد جاں بحق،مجموعی اموات 111 ہوگئیں

29 جولائی ، 2022

کوئٹہ، راولپنڈی (خبر ایجنسیاں)بلوچستان میں بارش وسیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، جس سے مزید 3 افراد جاں بحق ہو گئے ،صوبے میں جاری حالیہ قدرتی آفت سے اموات 111ہوگئیں، پی ڈی ایم اے نے بارشوں سے ہونے والے ابتک کے نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں بارشوں سے مزید 3افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد مرنے والوں کی مجموعی تعداد107ہوگئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جاں بحق ہونے والوں میں 42مرد 30خواتین اور 34بچے شامل ہیں جبکہ اموات بولان، کوئٹہ، ژوب، دکی اور خضدارمیں ہوئی۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بارشوں کے دوران حادثات کا شکار ہوکر 62 افراد زخمی ہوئے جبکہ مجموعی طور پر صوبے بھر میں 6077 مکانات منہدم اور نقصان پہنچا۔ پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق بارشوں میں 565کلو میٹر مشتمل مختلف 4شاہراہیں شدید متاثر ہوئیں جبکہ بارشوں سے 712مال مویشی بھی مارے گئے ہیں۔ پی ڈی ایم نے بتایا کہ مجموعی طور پر ایک لاکھ 97 ہزار 930ایکڑ پر کھڑی فصلیں، سولر پلیٹس، ٹیوب ویلز اور بورنگ کو نقصانات پہنچا۔ دوسر ی جانب بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری رہیں، پاک فوج، ایف سی کے جوانوں نے امدادی کاموں میں سول انتظامیہ کی مدد کی ،آرمی ایوی ایشن کے 2ہیلی کاپٹر کراچی سے لسبیلہ اور اوتھل میں امدادی کاموں بھیجے گئے ، بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں میڈیکل کیمپوں میں علاج معالجہ جاری رہا ۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج اور ایف سی کی امدادی کارروائیاں جمعرات کو بھی جاری رہیں۔ پاک فوج اور ایف سی کے دستے سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچاؤ اور امدادی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ نے مدد کی، بلوچستان میں امدادی سرگرمیوں کیلئے آرمی ایوی ایشن کے دو ہیلی کاپٹر کراچی سے اوتھل، لسبیلہ کے علاقوں کے لئے روانہ کئے گئے ، ہیلی کاپٹر سے پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، اس کے علاوہ امدادی سامان بھی گرایا گیا، اوتھل، جھل مگسی میں گراؤنڈ ریسکیو اور ریلیف ٹیمیں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور مقامی رہائشیوں کو خوراک اور پانی کی فراہمی میں مصروف رہیں، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کر رہے تھے، کوسٹل ہائی وے کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ، تباہ شدہ کمیو نی کیشن انفراسٹرکچر کی مرمت اور یوٹیلیٹیز بحال کرنے کی کوششیں جاری رہیں، تربت میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والے حفاظتی بند کی مرمت کر دی گئی، سندھ میں کراچی کے مختلف علاقوں سے پانی نکالنے کے ساتھ ساتھ جامشورو اور گھارو کے علاقوں میں بھی فوج امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل رہی۔