حالیہ بارشوں سے بلوچستان کے کئی اضلاع میں تباہی ہوئی

29 جولائی ، 2022

کوئٹہ (این این آئی )بلوچستان میں جاری شدید طوفانی بارشوں میں پاکستان آرمی اور ایف سی بلوچستان سیلاب زدہ علاقوں میں سول انتظامیہ کی معاونت کر رہے ہیں اور سیلاب میں پھنسے لوگوں کے ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں مصروف عمل ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق حالیہ بارشوں کے پیش نظر بلوچستان کے کئی اضلاع میں تباہ کاریا ں ہوئی ہے ۔خراب موسم کے پیشں نظر جہاں ریسکیو آپریشن میں دشواری کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے وہاں پاکستان آرمی اور ایف سی کے جوان سول انتظامیہ کے ہمراہ موسم کی پرواہ کیے بغیر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتعقل کر رہی ہے۔بارشوں کے باعث کئی شاہراہوں کا رابطہ منقطع ہوا جن میں خضدار سے کرخ ،زہری سے کْند کشمیر اور دیگر کئی شاہراوں کو نقصان پہنچا جسے سول انتظامیہ بھاری مشینریوں کے ذریعے کھولنے میں مصروف عمل ہے۔ لنک روڈ کرخ پر کام جاری ہے جبکہ شوران سے گنداوہ روڈکوبھی 5 مختلف جگہوں سے نقصان پہنچا جس کی بحالی آج متوقع ہے۔ پاکستان آرمی ،ایف سی بلوچستان نے لسبیلہ کے علاقے لاکھڑا سے 25افراد ،شوران سے40افراد،میرپور سے 52 افراد کو ریسکیو کرتے ہوئے محفوظ مقامات پر منتعقل کیا ریسکیو کیے گئے لوگوں میں اور دیگر علاقے جن میں کوہڑی ، بلنوک ، جھل مگسی وغیرہ شامل ہے ان میں اشیاء خوردنوش ، ٹینٹ اور دیگر روز مرہ گھریلواشیاء تقسیم کیا۔PPHIکی جانب سیلاب زدگان کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تحصیل وڈھ کے علاقے بدری میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا جہاں مریضوں کا مفت علاج اور مفت ادویات دی گئیں۔پاکستان آرمی اور ایف سی بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اپنے تمام تروسائل بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کو بروقت ریلیف فراہم کی جائے گی۔ ملک کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری رہیں، پاک فوج، ایف سی کے جوانوں نے امدادی کاموں میں سول انتظامیہ کی مدد کی ،آرمی ایوی ایشن کے 2 ہیلی کاپٹر کراچی سے لسبیلہ اور اوتھل میں امدادی کاموں بھیجے گئے ، بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں میڈیکل کیمپوں میں علاج معالجہ جاری رہا ۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج اور ایف سی کی امدادی کارروائیاں جمعرات کو بھی جاری رہیں۔ پاک فوج اور ایف سی کے دستے سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچاوٴ اور امدادی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ نے مدد کی، بلوچستان میں امدادی سرگرمیوں کیلئے آرمی ایوی ایشن کے دو ہیلی کاپٹر کراچی سے اوتھل، لسبیلہ کے علاقوں کے لئے روانہ کئے گئے ، یہ ہیلی کاپٹر گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران خراب موسم کی وجہ سے پرواز نہیں کرپا رہے تھے، ہیلی کاپٹر پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں گے اور ضروری امدادی سامان بھی منتقل کریں گے، گوادر میں جنرل آفیسر کمانڈنگ نے امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کیلئے اوتھل کے علاقے کا دورہ کیا، سینئر مقامی کمانڈر نے خضدار اور گردونواح کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کیا ، اوتھل، جھل مگسی میں گراوٴنڈ ریسکیو اور ریلیف ٹیمیں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور مقامی رہائشیوں کو خوراک اور پانی کی فراہمی میں مصروف رہے، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کر رہے تھے، کوسٹل ہائی وے کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ، تباہ شدہ کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی مرمت اور یوٹیلیٹیز بحال کرنے کی کوششیں جاری رہیں، تربت میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والے حفاظتی بند کی مرمت کر دی گئی، پنجاب کے علاقے ڈی جی خان میں بھی فوجی دسرت امدادی کوششوں میں سول انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں، سیلاب سے متاثرہ مقامی لوگوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لئے فوج کی جانب سے دو میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے ہیں، سندھ میں کراچی کے مختلف علاقوں سے پانی نکالنے کے ساتھ ساتھ جامشورو اور گھارو کے علاقوں میں بھی فوج امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل رہی۔