پاکستان کا اعزاز

اداریہ
29 جولائی ، 2022
تین پاکستانی طالبعلموں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق چین میں ہونے والے عالمی مقابلے میں کلیدی کامیابی حاصل کرکے دنیا پر اپنی محنت و لگن اور ذہانت کے جو نقوش قائم کئے ہیں یہ پوری پاکستانی قوم کےلئے باعث فخر و انبساط ہے ۔ چین کے شہر شینزین میں منعقد ہونے والے اس مقابلے میں 85 ممالک کی دوہزار یونیورسٹیوں کے ڈیڑھ لاکھ طلبہ شریک ہوئے جبکہ فائنل مقابلے میں کامیاب ہونے والے پاکستانی طالبعلموں میں تھرپارکر کے ایک دور افتادہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے ستیش کمار ، ضلع دادو کے بھاگ چند میگھوار اور بہاولپور کی اقرا فاطمہ شامل ہیں۔ متذکرہ مقابلے کے لئے پاکستان سے 12 ہزار درخواستوں میں سے 6 امیدواروں کا انتخاب کیا گیا تھا ۔ اس کامیابی کے حوالے سے مقابلے کے منتظمین کا یہ کہنا بھی ایک اعزاز سے کم نہیں کہ پاکستانی نوجوانوں میں ترقی کی بڑی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ نوجوان نسل کسی بھی ملک و قوم کا گراں بہا اثاثہ ہوتی ہے جس نے اپنے عزم اور بلند حوصلے سے اسےآسمان کی بلندیوں پر لے جانا ہوتا ہے اور جب کوئی قوم اپنے اس اثاثے کی قدر اور اسکی حوصلہ افزائی نہیں کرتی تو ایسے معاشرے کی دنیا سے قدر اور پہچان مٹ جاتی ہے۔ خوش قسمتی سے پاکستان ان 15 ملکوں میں شامل ہے جن کی نصف سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے تاہم انکی اکثریت اپنے مستقبل سے پریشان دکھائی دیتی ہے کیوں کہ انھیں آگے بڑھنے اور ترقی کی منازل طے کرنے میں سہولتوں سے زیادہ مسائل کا سامنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں نوجوانوں کی بامقصد سستی تعلیم اور کردار سازی کےلئے خصوصی اقدامات کریں ۔ انھیں بہتر روزگار اور صحتمند سرگرمیوں کے مواقع فراہم کئے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں اور علم و ہنر کو بروئے کار لاکر ملکی ترقی و خوشحالی میں حصہ ڈال سکیں۔
اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998