چیف جسٹس کے مجوزہ نام مسترد، جوڈیشل کمیشن کا اجلاس، ججز کیلئے تجویز کردہ 5 ناموں پر ارکان میں اختلاف، 4 کے مقابلے میں 5 کی مخالفت

29 جولائی ، 2022

اسلام آباد(ٹی وی رپورٹ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ختم ہوگیا‘ اجلاس میں چیف جسٹس کے نامزد ججز کے نام کثرت رائے سے مسترد ‘کسی جج کی تعیناتی نہ ہوسکی ۔جوڈیشل کمیشن کے اعلامیہ کے مطابق کمیشن کے اجلاس کی نئی تاریخ سے ممبران کو بعد میں آگاہ کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کیلئے چیف جسٹس کی جانب سے نامزد کیے گئے 5 ججز پر جوڈیشل کمیشن کے ارکان میں اختلاف رائے سامنے آیا جس کے بعد جوڈیشل کمیشن کے ممبران میں ووٹنگ کرائی گئی۔ ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کے نامزد ججوں کے خلاف 5 ووٹ آئے، 5 ووٹ مخالفت میں آنے پر اجلاس کچھ کہے بغیر ختم کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق جسٹس قاضیٰ فائز عیسیٰ‘ جسٹس طارق مسعود‘اٹارنی جنرل اشتر اوصاف ‘ وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ اور نمائندہ بارکونسل اختر حسین نے مخالفت میں ووٹ دیا ، سندھ کے 2 ججز سے متعلق جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی نے بھی مخالفت میں ووٹ دیا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس سجاد علی شاہ اورجسٹس اعجاز الاحسن نے نامزدگیوں کے حق میں ووٹ دیا۔ ذرائع کے مطابق جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی نےسندھ سے 2نامزدگیوں کی مخالفت، 3 کے حق میں ووٹ دیا۔ ذرائع کے مطابق چار کے مقابلے میں 5 ووٹ مخالفت میں آنے پر اجلاس ختم کردیا گیا۔اجلاس میں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد وحید ، سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس اظہر رضوی، جسٹس شفیع صدیق اور جسٹس نعمت کے ناموں پر غورکیا گیا۔ اجلاس کے اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا اجلاس چیف جسٹس کی زیر صدارت کمیٹی روم میں ہوا، چیف جسٹس سمیت 7 ارکان اجلاس میں شریک ہوئے۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 2 ارکان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور اٹارنی جنرل آف پاکستان وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے، اجلاس میں سپریم کورٹ میں بطور جج تعیناتی کیلئے 5 ناموں پر غور کیا گیا۔اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا اجلاس مؤخر کیا گیا ہے‘اجلاس مؤخر کرنے کی حمایت اٹارنی جنرل نے بھی کی‘اجلاس مؤخر کرنے سے متعلق 5 ارکان کے ووٹ آئے، ناموں پر بحث کےبعدچیف جسٹس نے نئے ججز سے متعلق مزید ڈیٹا فراہم کرنےکی ہدایت کی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس نے مزید غور کیلئےاجلاس مؤخر کرنے کی تجویزدی، جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس (ر) سرمد جلال عثمانی نے اجلاس مؤخر کرنے کی حمایت کی۔