آئی ایم ایف قرضہ، سبوتاژ کی کوشش !

اداریہ
31 اگست ، 2022

ایسے مشکل حالات میں جب پاکستان معاشی دیوالیہ پن کے قریب پہنچ چکا ہے ، ملک کا ایک تہائی حصہ معمول سے کئی گنا زیادہ ہونے والی بارشوں سے آنے والے ریکارڈ توڑ سیلاب میں ڈوب چکا ہے، تقریباً ساڑھے تین کروڑ بے گھر لوگ سرکاری امداد اور بحالی کے منتظر ہیں۔ دس کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے مال و اسباب دریا برد ہو چکے ہیں، بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی جانب سے 2019ء میں کئے گئے معاہدے کے تحت مالیاتی توسیع پروگرام کی بحالی کا فیصلہ ایک اہم پیش رفت ہے جو موجودہ حکومت کی سرتوڑ کوششوں اور مشکل ترین فیصلوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے نہ صرف ایک ارب 10کروڑ ڈالر کی دو قسطوں کی یک مشت ادائیگی کی منظوری دی بلکہ تین سال پرانے سمجھوتے کے تحت پاکستان کیلئے موعودہ 6ارب ڈالر کے قرضے میں 50کروڑ ڈالر کا اضافہ بھی کر دیا، وزیر اعظم شہباز شریف نے بجا طور پر یقین کا اظہار کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے اس اقدام سے نہ صرف ملک کے سری لنکا کی طرح دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹل گیا ہے بلکہ اس سے اقتصادی استحکام آئے گا اور معاشی خود انحصاری کی منزل تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔ قرضے کی یہ رقم اسی ہفتے پاکستان کو منتقل کر دی جائے گی۔ آئی ایم ایف نے جن سخت شرائط کے تحت قرضہ منظور کیا اس میں دوسرے ذرائع سے چار ارب ڈالر جمع کرنے کا تقاضا بھی شامل تھا پاکستان نے دوست ممالک کی مدد سے چار کی بجائے پانچ بلین ڈالر کا انتظام کر لیا عالمی ادارے کے اس اہم فیصلے کے نتیجے میں عالمی بنک ، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں کیلئے بھی پاکستان کی فنانسنگ کا دروازہ کھل گیا ہے جو ملکی معیشت کی بحالی اورفروغ میں مدد گار ثابت ہو گا۔ ادارے کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے اعلامیہ میں زور دیا گیا کہ پاکستان کو معاشی چیلنجز پر قابو پانے کیلئے توانائی کے نقصانات کم کرنا ہوں گے اور ٹیکس آمدنی بڑھانا ہو گی۔ اجلاس میں مہنگائی پر قابو پانے کیلئے شرح سود بڑھانے کی تعریف کی گئی۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ روس ، یوکرین جنگ کی وجہ سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر بہت دبائو پڑا۔ لیکن سخت مالیاتی پالیسی اپنا کر وہ افراط زر اور تجارتی عدم توازن پر قابو پا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے تازہ فیصلے کا فوری نتیجہ یہ ہوا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بڑھ گئی اور سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رحجان شروع ہو گیا جس سے کاروبار کیلئے ماحول سازگار بنانے میں مدد ملے گی۔ پاکستان اس وقت جن معاشی مشکلات سے دوچار ہے ان پر قابو پانے کیلئے یہ قرضہ ناگزیر تھا اور اس کیلئے مذاکرات کے طویل مراحل سے گزرنا پڑا۔ لیکن عین اس وقت جب آئی ایم ایف کا فیصلہ کن اجلاس ہونے والا تھا، قرضے کی منظوری روکنے کیلئے تحریک انصاف کی طرف سے کی جانے والی ایک سازش بے نقاب ہوئی جو ریاست کے مفاد کو نقصان پہنچانے کی بدترین کوشش تھی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پی ٹی آئی کے لیڈر اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی خیبرپختونخوا اور پنجاب کے وزرائے خزانہ کے ساتھ ایک ٹیلی فونک گفتگو لیک ہوئی ہےجس میں شوکت ترین ان وزراءکو ہدایت دے رہے ہیں کہ وہ آئی ایم ایف کو خط لکھیں جس میں بتائیں کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا وفاقی حکومت سے ہونے والے معاہدے کی پابندی نہیں کریں گے تاکہ ڈیل نہ ہو سکے۔ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنمائوں نے آڈیو کی تصدیق کی ہے لیکن شوکت ترین نے جو کچھ کیا اس کا دفاع بھی کیا ہے سیاسی جماعتوں کو معاشی مشکلات سے نکالنے کیلئے ملکی مفاد میں مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے نہ کہ اس طرح کی رکاوٹیں ڈالیں۔ پی ٹی آئی کے ترجمان اس حوالے سے جو تاویلیں گھڑ رہے ہیں تجزیہ کاروں نے انہیں ناقابل قبول قرار دیا ہے۔