کراچی (ٹی وی رپورٹ‘جنگ نیوز) تحریک انصاف کے رہنماء فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کے خلاف عدالتی فیصلہ آیا تو فیصلہ عوام ہی کریں گے‘ آپ عمران خان کو ہٹائیں گے تو کیسے خود رہ پائیں گے‘ ذوالفقار علی بھٹو‘یوسف گیلانی ‘نواز شریف کے کیسزاور عمران خان کے کیسزمیں فرق یہ ہے کہ وہ اپنی مقبولیت کھوچکے تھے ‘عمران خان اپنی مقبولیت کی بلندیوں پر ہیں اس لئے ان کے خلاف فیصلہ نہیں آسکتا‘سیاست میں فوج کا کردارختم کرنے کیلئے بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے ایک ٹی وی انٹرویو میں فوادچوہدری کا کہنا تھاکہ کوئی بھی جج حراست کے دوران تشددکو کس طرح اتنی آسانی سے نظر انداز کرسکتا ہے‘بدقسمتی ہے کہ ان جج صاحبہ نے تو کمال ہی کردیا‘عمران خان کے معافی نہ مانگنے سے متعلق سوال پر فواد چوہدری نے کہا اگر جج یہ سمجھے گا کہ وہ معافی مانگیں گے تو وہ پاکستان میں حقوق کی تحریک کو نقصان پہنچارہا ہوگا ۔ اس وقت ہمیں یہ لگ رہا ہے کہ یہ ادارے جن میں عدلیہ شامل ہے یہ قانون کے زیر دست نہیں ہیں ۔ اس کی مثال یہ ہے کہ پشاورمیں یہی کیس سسپینڈ ہوگیا اور اسلام آباد میں ضمانت تک نہیں ہورہی ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ Law نہیں ہے جن ملکوں میں جج lawبن جائیں گے اور قانون کی حیثیت نہیں ہوگی وہ پھر 130 پر ہی رہیں گے آگے نہیں آسکیں گے ۔ امریکا جیسے ملک میں تو سپریم کورٹ کی عمارت پر انڈے تک مارے گئے ہیں لیکن یہاں تو شور مچ جاتا ہے کہ یہ ہوجائے گا وہ ہوجائے گا۔ فواد چوہدری نے کہا پاکستان میں المیہ یہ ہوا ہے کہ پاکستان میں کوالٹی ڈیموکریسی پر بحث ہی ختم ہوگئی ہے ۔اسلام آباد ہائیکور ٹ نے تو عمران خان کی لائیو تقریر پر پیمرا آرڈر معطل کردیا ہے لیکن پھر بھی دیکھ لیں کسی نے نہیں دکھائی یہاں اسلام آباد ہائیکورٹ بے بس ہے اس کا حکم نہیں چلا ۔ کبھی بھی سوچ اور پارٹی کو جبر و تشدد یا پابندی سے ختم نہیں کیا جاسکتا ہے‘ بہت سے لوگ پی ٹی آئی میں ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو نااہل کیا جاسکتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا نواز شریف سے ہمارا بہت سی باتوں پر اختلاف ہے لیکن ان کا جو سیاسی تدبر ہے اس سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا اور مجھے اسی لئے سمجھ نہیں آرہی ہے کہ نواز شریف کیسے اس کنویں میں چھلانگ لگارہے ہیں ‘ شاید کہ ان کو یہاں والوں نے یہ کہا ہوگا کہ ان کے کیسز ٹھیک ہوجائیں گے‘اب دیکھ لیں شہباز شریف وزیراعظم بن گئے باقی جو اتحادی تھے وہ وزیر بن گئے ان کی موجیں لگی ہوئی ہیں‘اس سب میں مریم نواز شریف او رنواز شریف نے کیا حاصل کیا ہے ۔اگر ہم آئیڈیل پاکستان چاہتے ہیں تو ہم سیاستدانوں کو ایک دوسرے کو اسپیس دینی چاہئے۔اسٹیبلشمنٹ سے رابطے کے سوال پر فواد چوہدری نے کہا ابھی تو رابطہ نہیں ہے انفرادی طور پر اگر کسی کا ہو تو میرے علم میں نہیں ۔ پہلے نامزد تھے بات چیت کے لئے لیکن اب ایسا نہیں ہے سب روک دیا گیاہے۔یہاں تو عمران خان کے خلاف روز ہی ایک پرچہ ہورہا ہے‘اس صورتحال میں تو بات کرنا مشکل ہوگا۔اس وقت ہو یہ رہا ہے کہ جوڈیشری سے تعلقات اچھے رکھو کہ فیصلے ججوں نے کرنے ہیں۔ فوج سے تعلقات اچھے ہونے چاہئیں مسل پاور تو فوج کے پاس ہے تو اس طرح تو پاکستان کبھی آگے نہیں بڑھے گا۔اگر سسٹم ایسے ہی چلانا ہے تو پھر یہیں کھڑے رہیں گے ۔فوج کے پاس پاور تو اس وقت تک رہے گی جب تک آپس میں سیاستدان مل کر فیصلہ نہ کرلیں فیصلے فوج ہی کرتی رہے گی ۔فواد چوہدری کا مزیدکہناتھاکہ فوج کا سیاست سے کردار ختم کرنے کے لئے ایک بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے اور وہ جدوجہد ہونا چاہئے لیکن میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ یہ جوڈیشری اور فوج کب سوچے گی کہ اس نے اپنا کردار ری ڈیفائن کرنا ہے‘میری نظر میں تو سیاستدانوں کو بیٹھ کر اپنی رول آف گیم بنانی چاہئے مگر وہ بنانہیں رہے اور اس لئے نہیں بنارہے کہ ان میں آپس میں اعتماد کا فقدان ہے کہ میں نہیں تو دوسرا ڈیل کرجائے گا اور میں باہر ہوجاؤں گا ۔
واشنگٹنامریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے دوران قابلِ اعتماد خلیجی ممالک کی مالی امداد یا...
اسلام آبادنائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے منگل کوسعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن...
اسلام آبادپاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے منگل کے روز کہا کہ نئی شرائط کے اضافے کے...
راولپنڈی اڈیالہ جیل میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے درمیان ملاقات کرادی گئی،جیل ذرائع کے مطابق...
کراچی بیرونی سرمایہ کاری 33فیصد کم، مہنگائی میںمزید اضافہ،وزارت منصوبہ بندی کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے مطابق...
کراچی ماہر بین الاقوامی امور کامران بخاری ، صحافی، واشنگٹن ڈی سی ادریس علی اور نمائندہ جیو نیوز اعزاز سید نے...
کراچی تجزیہ کاروں ڈاکٹر راشد نقوی اور پروفیسر عادل نجم نے کہا ہے کہ 1953 میں ہوئی نارتھ کوریا کی جنگ بندی اب تک...
کراچی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ اسرائیل، روس اور امریکا عالمی انسانی حقوق کی تباہی...