KP میں دریاؤں کے کنارے غیرقانونی ہوٹلز، تعمیر کی اجازت دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، آرمی چیف

31 اگست ، 2022

سوات(ایجنسیاں)پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے زیادہ مسئلہ بلوچستان میں ہے جہاں پورے کے پورے گائوں صفحہ ہستی سے مٹ چکے‘یہاں پر اتنا مسئلہ نہیں‘ زیادہ مسئلہ سندھ میں ہے جہاں 4،4 فٹ پانی کھڑا ہے‘خیموں کی زیادہ ضرورت ہے، بیرون ملک سے ٹینٹس منگوانے کی کوشش کر رہے ہیں، فوج کی طرف سے بھی خیمے فراہم کئے جا رہے ہیں، این سی او سی کی طرز پر ہیڈ کوارٹر بنایا گیا ہے جہاں امداد کا ڈیٹا اکھٹا ہوگا، 2010 کے سیلاب میں بھی کالام میں ایسی ہی تباہی ہوئی اور دوبارہ دریاؤں کے کنارے انہی جگہوں پر تعمیرات کرنے کی اجازت دے کر غفلت کا مظاہرہ کیا گیا،ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے‘ چھ سات روزمیں کالام روڈکھول دیں گے ۔ وہ منگل کو سوات دورہ کے موقع پر متاثرین اور پھنسے ہوئے لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کانجو کینٹ ہیلی پیڈ پر میڈیا کے نمائندوں سے بھی مختصر گفتگو کی۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کیلئے سروے ضلعی انتظامیہ، صوبائی حکومتیں اور فوج مل کر کریں گے۔کالام میں کافی نقصان ہوا ہے، پل اور ہوٹل بہت تباہ ہوئے ہیں۔ اس وقت سب سے ضروری کالام روڈکو کھولنا ہے، امید ہے 6 سے 7 دنوں میں روڈ کو کھول دیں گے ‘ کالام میں اب بحران کی صورتحال نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب زدگان کی امداد کے لئے اپیل پر بہت اچھا رسپانس ہے، کئی کئی ٹن راشن اکٹھا ہو رہا ہے‘ انہوں نے کہا کہ یو اے ای، ترکی اور چین سے امدادی سامان کی پروازیں آنا شروع ہو گئی ہیں، سعودی عرب اور قطر سے بھی پروازیں آنا شروع ہو جائیں گی، دوست ممالک نے پاکستان کو مصیبت میں کبھی اکیلا نہیں چھوڑا، ان شاء اللہ آئندہ بھی نہیں چھوڑیں گے۔ ہمیں متاثرین کو گھر بنا کر دینے پڑیں گے، ہم ان شاء اللہ متاثرین کو پری فیب گھر بنا کر دیں گے، یہاں پر اتنا مسئلہ نہیں۔