توہین عدالت کیس، چیئرمین PTI کا معافی مانگنے سے گریز، بنچ پر اعتراض، جج کو دھمکی غلط فہمی میں دی، الفاظ ناگوار لگے تو واپس لینے کو تیار ہوں، عمران خان

31 اگست ، 2022

اسلام آباد(ٹی وی رپورٹ‘ایجنسیاں)سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو دھمکانے کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے شوکاز نوٹس پر جواب جمع کرادیا۔اپنے جواب میں عمران خان نے خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی پر معافی مانگنے سے گریز کیا تاہم دھمکی والے الفاظ واپس لینے کی پیشکش کی اور کہا کہ الفاظ غیر مناسب تھے تو واپس لینے کیلئے تیار ہوں۔پی ٹی آئی چیئرمین کے جواب کے متن کے مطابق اس غلط فہمی اور مغالطے میں تھا کہ زیبا چوہدری جوڈیشنل افسر نہیں ہیں، غلط فہمی میں تھا زیبا چوہدری وفاقی حکومت کی ہدایت پر انتظامی مجسٹریٹ کے فرائض ادا کررہی ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ عدالت تقریر کاسیاق و سباق کے ساتھ جائزہ لے، پوری زندگی قانون اور آئین کی پابندی کی ہے، ججز کے احساسات کو مجروح کرنے پر یقین نہیں رکھتا۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ میرے ریمارکس انصاف کی راہ میں مداخلت نہیں تھے، نہ ہی ان ریمارکس کا مقصد عدالتی نظام کی سالمیت اور ساکھ کو کم کرنا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ 17اگست کے حکم کو پہلے ہی پٹیشن میں چیلنج کردیا گیا تھا، توہین عدالت کا مرتکب نہیں ہوا، ڈپٹی رجسٹرار نے ایف نائن پارک میں تقریر سے چند الفاظ کا انتخاب کیا، تقریر کے ان الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر دیکھا گیا، میڈیا میں ایسے رپورٹ ہوا جیسےقانون اپنے ہاتھ میں لینے کا ارادہ رکھتا ہوں۔عمران خان کا کہنا ہے کہ ہر شہری کا حق ہے وہ کسی بھی عوامی عہدیدار یا جج کے مس کنڈکٹ پر شکایت کرے‘ ایکشن لینے کی بات صرف آئین اور قانون کے مطابق ایکشن لینے سے متعلق تھی، آپ سب شرم کریں کہ الفاظ کسی اور انداز میں ادا کیے گئے۔جواب میں ان کا کہنا مزید کہنا تھاکہ جوش خطابت میں ایسے الفاظ استعمال کیے جو عدالت کو ناگوار لگے، قانون کی عملداری پر یقین رکھتا ہوں، نیت توہین عدالت کی نہیں تھی۔ انہوں نے استدعا کی کہ توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لیا جائے۔