اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کی نوعیت جانچ کیلئے اسمبلی رولز کیخلاف درخواست مسترد

31 اگست ، 2022

لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کی نوعیت کی جانچ کیلئے اسمبلی رولز آف بزنس کیخلاف درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا دیا،عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے مسترد کر دی، درخواست میں فرید عادل نے موقف اپنایا کہ اسمبلی رولز آف بزنس کی دفعہ 43 میں سپیکر کو اراکین کے استعفوں کی نوعیت چانجنے کا اختیار دیا گیا ہے، قومی اسمبلی رولز آف بزنس کی دفعہ 43 آئین سے تجاوز کر رہی ہے، رولز آف بزنس کی دفعہ 43 مکمل طور غیرمتعلقہ اور غیر ضروری ہے، آئین قومی اسمبلی کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ کسی رکن اسمبلی کے استعفے کی نوعیت کو جانچے، سپیکر قومی اسمبلی کسی بھی رکن کے استعفی کی نوعیت کی تحقیقات بھی کروانے کا مجاز نہیں ہے، اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہونے کیلئے رکن کا ہاتھ سے لکھا ہوا استعفا ہی آئین کا تقاضا ہے، متعلقہ حلقے کے عوام کو نمائندگی سے محروم نہیں رکھا جا سکتا، استدعا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کو زیرالتواء استعفوں کو فوری منظور کرنے کا حکم دیا جائے، سپیکر قومی اسمبلی کو ہاتھ کے بغیر لکھے گئے استعفوں کو فوری طور واپس کرنے کا حکم دیا جائے، اراکین اسمبلی کے استعفوں سے متعلق قومی اسمبلی رولز آف بزنس کی دفعہ 43 کی ذیلی شق 2 غیر آئینی قرار دی جائے۔