سینیٹ خزانہ کمیٹی نے اسٹیٹ انٹرپرائزبل مستردکردیا

22 ستمبر ، 2022

اسلام آباد (ایجنسیاں)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اسٹیٹ انٹرپرائز(گورننس اینڈ آپریشنز) بل مسترد کردیا۔سینیٹر سعدیہ عباسی نے تجویز دی کہ حکومت سابقہ بل کی توثیق نہ کرے اور اپنی پالیسیوں کی روشنی میں نئے بل بنائے۔ کمیٹی نے بینکوں کی جانب سے ایل سی کے اجراء پر زائد چارجز کے معاملے کا جائزہ بھی لیا ۔ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے معاملے کی انکوائری شروع کردی ہے اور رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے گی۔ڈالر کی قدر میں غیر معمولی اضافے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے تجویز پیش کی کہ کاروں اوربائیک کے ایندھن کا استعمال محدود کرنا چاہئے کیونکہ ملک کی بڑی رقم ایندھن کی درآمد پر خرچ کی جارہی ہے۔ بدھ کو اسٹیٹ انٹرپرائز بل کے معاملے پر سعدیہ عباسی ،وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا پر برس پڑیں اور کہاکہ اسٹیٹ انٹرپرائز بل اپریل 2021 میں گزشتہ حکومت لے آئی۔بل قومی مفاد کیخلاف ہے اسے مسترد کرتے ہیں، اگر گزشتہ حکومت کا بل ہی لیکر چلنا ہے تو حکومت کیوں لی؟۔ سعدیہ عباسی نے کہاکہ حکومت نے نہیں بتایا کہ کونسی اسٹیٹ انٹر پرائزز منافع میں ہے کونسی نقصان میں؟۔سعدیہ عباسی نے کہاکہ مہنگائی بڑھتی جارہی ہے اور حکومتی ٹیم بل پر بل لارہی ہے۔وزیر مملکت خزانہ نے بتایاکہ بل کا مقصد کسی ادارے کی نجکاری کرنا نہیں ۔شوکت ترین نے بل کو مسترد کرنے کی مخالفت کرتےہوئے کہاکہ بل پر بحث ہونی چاہیے حکومت کی نیت خراب نہیں تھی۔