ایران میں خاتون کی ہلاکت، احتجاج اسکارف جلادیئے گئے ، ہلاکتیں 8ہوگئیں

22 ستمبر ، 2022

پیرس (اے ایف پی، جنگ نیوز) ایران میں خاتون کارکن مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد جاری مظاہروں کیخلاف کریک ڈاون کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 8 ہوگئی، ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے جو ملک کے 15 شہروں تک پہنچ گیا، سوشل میڈیا پر مظاہرے کی جاری ویڈیو فوٹیج کے مطابق کچھ خواتین نے دوران احتجاج اپنے حجاب بھی اتار کر پھینک کر جلادیئے، چند خواتین نے علامتی طور پر اپنے بال بھی کاٹے۔امینی کی ہلاکت پر مظاہرین کیخلاف سخت کارروائی پر اقوام متحدہ، امریکا،برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک نے مذمت کی ہے۔ جنرل اسمبلی میں خطاب کے موقع پر امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کی بہادر خواتین کیساتھ کھڑا ہے جو اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کررہی ہیں ۔ برطانوی وزیرخارجہ جیمز کلیورلی نے جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کےد وران کہا کہ ایران کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ان کی عوام اس راستے سے خوش نہیں جو تہران نے اختیار کررکھا ہے ۔ ایران کے صدر رئیسی نے مغرب کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے اس پر منافقت کا الزام عائد کردیا ہے ،رئیسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ کینیڈا میں ایک مقامی خاتون کی ہلاکت، فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی مظالم اور اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کیخلاف داعش کے تشدد پر مغرب خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ دوہرا معیار برقرار رہے گا ہم سچائی پر مبنی انصاف اور مساوات حاصل نہیں کرسکتے۔ ۔ تفصیلات کے مطابق ایران کے کئی شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے ، مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ جمعے کے روز 22سالہ امینی جسے حجاب ٹھیک طور پر نہ پہننے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا دوران حراست انتقال کرگئی تھیں جس کے بعد سے ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق کرد خاتون جن کا نام جنہا بھی تھا کو تشدد کرکے ہلاک کیا گیا جبکہ ایرانی حکام نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے تفتیش کا اعلان کردیا ہے۔ تہران میں مظاہرین نے اسکارف اور حجاب کیخلاف نعرے بھی لگائے اور مساوات کا مطالبہ کیا، مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے نیویارک اور استنبول میں بھی مظاہرے کئے گئے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نصیر کانانی نے ان مذمتوں کو اپنے ملک میں مداخلت قرار دیا ہے۔ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے خاتون کی ہلاکت پر مغرب کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے اس پر منافقت کا الزام عائد کیا ہے۔ دریں اثناء استنبول میں ایرانی قونصلیٹ کے باہر درجنوں خواتین نے امینی کی تصویر اٹھائے احتجاجی مظاہرہ کیا، اس موقع پر بھی ایک خاتون نے اپنے بال کاٹ دیئے، اس دوران ایک احتجاجی بینر پر لکھا تھا کہ ’’ہم سب مہشا امینی ہیں‘‘۔