عمران ہوتے کون ہیں آرمی چیف کی تعیناتی کی ہدایت دینے والے،فضل الرحمٰن

03 اکتوبر ، 2022

کراچی(ٹی وی رپورٹ)جیو نیوز کے پروگرام ”جرگہ“ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کا تقرر وزیراعظم کا اختیار ہے، عمران ہوتے کون ہیں آرمی چیف کی تعیناتی کی ہدایت دینے والے، عدم اعتماد اور اسمبلی کے اندر تبدیلی لانے سے اختلاف رکھتے تھے، حکومتیں نمائشوں سے نہیں کمٹمنٹ سے چلتی ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سازش نہیں ہوئی ان کولانے کے لئے سازش ہوئی، انہیں یہودیوں اور بھارتیوں نے فنڈنگ کی، اس ماہ پی ڈی ایم کا اجلاس بلایا جائے گا، عمران خان نے ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھا، آڈیو لیکس میں عمران خان کہہ رہے ہیں کہ خط کو استعمال کرنا ہے، پورے ملک میں لوگ عمران خان کی کارکردگی سے مایوس تھے، بائیڈن کا عمران خان سے نہ ملنا اس کا ردعمل تھا جس پر اس کی ناراضی فطری بات ہے۔ سلیم صافی: مولانا صاحب مجھے کھلا تضاد نظر آتا ہے، آپ ان اسمبلیوں کو جعلی کہتے تھے، اس اسمبلی اور سینیٹ کی کوئی ساکھ نہیں ہے، آپ لوگ اس جعلی اسمبلی کو دوام کیوں دینا چاہتے ہیں اور صاف و شفاف الیکشن سے کیوں ڈرتے ہیں؟ مولانا فضل الرحمن: آپ نے بجا فرمایا کہ اصولی طور پر ہم نے 2018ء کے الیکشن کوتسلیم نہیں کیا، ان اسمبلیوں کو بھی ہم نے تسلیم نہیں کیا، لیکن چونکہ ملکی سیاست میں تنہا ہم نہیں لڑرہے تھے، ہم عدم اعتماد اور اسمبلیوں کے اندر تبدیلی لانے سے اصولی طور پر اختلاف رکھتے تھے اور اکثریت جو ہے جب دوسری جماعتیں بھی آکر مل گئیں تو پلڑا اس سائڈ کا بھاری ہوگیا ہے کہ اب ایوان کے اندرتبدیلی کے امکانات چونکہ زیادہ واضح ہیں تو بھی ہم نے عدم اعتماد میں پی ٹی آئی کے لوگوں کا ووٹ نہیں لیا اور جو پولیٹیکل فورسز تھیں اور ان کی باقاعدہ رجسٹرڈ پارٹیاں تھیں دوسری اتحادی، پہلے سے مینگل صاحب آگئے تھے وہ کافی عرصہ پہلے آگئے تھے، اس موقع پر بقیہ دو چار جماعتیں بھی ایم کیو ایم، باپ پارٹی اور دوسرے آئے، یہ جب ماحول بن گیا، ایک طرف پورے ملک میں عمران خان کی کارکردگی سے جو لوگ مایوس تھے اور اس کو ہر قیمت پر جلد از جلد اتارنے کی توقع اور تمنا رکھ رہے تھے تو وہ جو معروضی کیفیت اور ضرورت تھی وہ غالب آگئی، پھر ظاہر ہے اس وقت اتحاد کو توڑنا، ان سے الگ ہونا وہ شاید اس عنصر کو زیادہ تقویت دیتا جس سے قوم نجات حاصل کرنا چاہتی تھی۔ سلیم صافی: جس عنصر سے قوم نجات چاہتی تھی وہ عنصر یعنی پی ٹی آئی تو پاپولر ہوگئی، نہ آپ لوگوں سے عمران خان قابو ہورہے ہیں، نہ ڈالر قابو ہورہاہے، نہ حکومت آپ چلاسکتے ہیں، جب چلانہیں سکتے تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ مولانا فضل الرحمن: یہ بھی میری دلیل تھی کہ اگر ہم نے مہنگائی مارچ کئے ہیں، ہم نے جلسے کئے، ہم نے مہنگائی کے ایشو کو اٹھایا تو ہمارا ایک جچی تلی رائے تھی کہ ریاست کمزور ہورہی ہے اور ریاست جب کمزور ہوگئی ہے تو حکومت ہم بھی حاصل کرلیں تو کمزور ریاست ہمارے ہاتھ میں آئے گی، نتیجہ یہ ہوگا کہ نقصانات کی تلافی میں وقت لگے گا، مہنگائی کو ختم کرنا، لوگوں کو ریلیف دینے میں کافی وقت لگے گا، عام آدمی ان باریکیوں کو نہیں سوچتا وہ اپنی مشکلات کو دیکھتا ہے، ایک غریب آدمی اپنی بھوک کو دیکھتا ہے، اس پر میں نے ان سے کہا تھا کہ اگر ان حالات میں آپ حکومت لیں گے تو پھر ایک کمٹمنٹ یہ کرلیں گے کہ صرف انتخابی اصلاحات کا قانون پاس کرکے اور نیب وغیرہ کے حوالے سے اصلاحات کرکے آپ الیکشن کا اعلان کردیں لیکن یہ ہوا کہ اس نے جو ڈرامے کھیلے اور جن ڈراموں کی بنیاد پر اس نے جعلی قسم کے خط بھی ہلا کر اور ایسا ماحول پیدا کردیا کہ جس ماحول کے بعد ان تمام اتحادیوں نے اس بات پر سوچا کہ ٹھیک ہے وقتی طور پر ہمیں سیاسی نقصان بھی ہوگا، وقتی طور پر وہ کچھ اوپر بھی جائے گا جس کا ہم پہلے بھی خدشہ کررے تھے اور وہی ہوگا وہی ہورہا ہے لیکن جب ہم نے ملکی حالات کو ہاتھ ڈال لیا اور پھر اس کے بعد ہم بڑے گہرائی میں اس صورتحال کی طرف ڈالیں تو ضرورت اس امر کی تھی اور اس پر اتفاق ہوگیا کہ ہمیں وقت پورا کرنا چاہئے تاکہ ہم تلافی کی طرف جاسکیں، اس وقت صورتحال کنٹرول نہیں ہوپارہی لیکن اس کی بنیادیں فراہم کرلی گئی ہیں، اس کیلئے مجھے اطمینان ہے جس طرح جلسے میں میاں شہباز شریف کہا کرتے تھے کہ مجھے چھ مہینے چاہئے ہوں گے، ساڑھے تین سال جس نے ملک کو غرق کیا ہے اور آپ بتائیں کہ تین مہینوں کے اندر صورتحال کو اسی کیفیت میں لانا، وہ جو معاہدات بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ملک کو گروی رکھا گیا آئی ایم ایف کے ہاتھ میں اور پھر ایف اے ٹی ایف کے کہنے پر قانون سازیاں ہوئیں، پھر آپ نے اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے حوالے کردیا تو جو ملکی معیشت کی چابیاں ہوتی ہیں اور جو ادارے ملکی معیشت کو کنٹرول کرتے ہیں وہ آپ کے اس حد تک کمزور ہوگئے۔ سلیم صافی: وہ کہتے ہیں میں امریکا سے آزادی چاہتا تھا اور روس کی طرف گیا تھا، آپ لوگ امریکا کے مہرے بن کر ان کیخلاف سازش میں استعمال ہوئے؟ مولانا فضل الرحمن: اس پر سارے حقائق سامنے آرہے ہیں، وہ سائفر جو عام طور پر دنیا میں ایک سفیر اپنے ملاقاتوں کے جو تاثرات ہوتے ہیں اس کو کسی طرح وہ آجاتی ہیں اور وہ ایک سیکرٹ ڈاکیومنٹ ہوتا ہے، یہاں تک کہ سیکرٹری خارجہ کے پاس باہر سے کوئی ڈاکیومنٹ آتے ہیں تو وہ اس کا بھی پابند نہیں ہے کہ وہ ڈاکیومنٹ وزیرخارجہ کو دکھائے لیکن انہوں نے ایک ایسا طریقہ کرکے اس کے منٹس تیار کئے جائیں اور منٹس کو استعمال کیا جائے، اب تو امریکا نے بھی اس کی تردید کردی، پاکستان کے اداروں نے بھی تردید کردی، ان کے اس حوالے سے بیباکانہ بیانات پر سپریم کورٹ نے بھی ان کی بعض باتوں کو آئین شکنی قرار دیا، اب جو آڈیو لیک سامنے آرہی ہیں جس میں وہ خود کہہ رہا ہے کہ ہم نے اس خط کو استعمال کرنا ہے اور خبردار امریکا کا نام نہیں لینا تو امریکا کا نام نہیں لینا اور امریکا کا خیال بھی رکھنا ہے اور امریکا سے آئے ہوئے خط کو استعمال بھی کرنا ہے، ان تضادات کو اکٹھا کرکے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی اور حقائق روز بروز سامنے آرہے ہیں اورآپ خود اس کا مشاہدہ کررہے ہیں، مجھ سے زیادہ آپ نے اس کا مطالعہ کیا ہوگا کہ یہ صورتحال کس قدر بھونڈی اور کس قدر اس کے اندر ایک خلا ہے، اس کا کچھ بھی وجود نہیں ہے تو آج وہ کھل کر ایکسپوژ ہورہا ہے کہ ڈرامے کیوں کرتے ہو، ڈرامے کو ایکسپوز کرنے کیلئے بھی ضرورت تھی۔ سلیم صافی: آپ تو عرصہ دراز سے ان پر غیرملکی ایجنٹ کا الزام لگاتے رہے اس کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا، وہ روس چلا گیا؟ مولانا فضل الرحمن: روس چلا گیا، وہاں پر جو انہوں نے قدم مبارک رکھے اور یوکرین کا مسئلہ اسی دن پیدا ہوا تو اس کے جانے کا یہ نتیجہ تھا، وہ روس گیا کیوں؟، اس کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہے جس ملک میں جارہا ہے اس ملک کی اس وقت کی جو اسٹریٹجک پوزیشن ہے اسے معلوم کرے، اس کو یہ پتا نہیں ہے کہ وہاں کی اکنامک پوزیشن کیا ہے، اسے یہ پتا نہیں ہے کہ اس ملک کی پولیٹیکل پوزیشن کیا ہے اور وہاں کیا حاصل کریں گے، اگر وہ روس چلا گیا تو کیا یہ بمقابلہ امریکا تھا؟، کیا ہمارا وزیراعظم روس جائے گا یا اقوام متحدہ میں ہمارے وزیراعظم نے ان سے ملاقاتیں کی ہیں، کیا امریکا کے مقابلہ میں ہوتی ہیں یا امریکا سے ہم ملیں گے تو چین کے مقابلہ پر ملیں گے؟ پاکستانی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے چیزیں ہوتی ہیں، اسے یہ بھی پتا نہیں کہ جس ملک میں جارہا ہوں اس میں پاکستانی مفادات کو غرق کررہا ہوں یا پاکستانی مفادات حاصل کررہا ہوں۔ سلیم صافی: اس وقت سب سیاسی جماعتیں ایک طرف عمران خان دوسری طرف ہیں، وہ اپنے جھوٹ کو قوم کو بیچ سکا کیا یہ آپ لوگوں کی سیاسی ناکامی نہیں ہے؟ مولانا فضل الرحمن: حکومت سے لوگوں کی توقعات ہوتی ہیں کہ وہ میری مشکل کو حل کرے گی، جب تک آپ لوگوں کی مشکلات حل نہیں کریں گے یہ تاثر منفی یا تنقیدی پبلک میں جاتا ہے تو یہ ایک فطری عمل ہوتا ہے، اس سے آپ کسی کو نہیں روک سکتے لیکن ایک بات پبلک کو سوچنا ہوگی کہ متضاد الخیالات، مختلف الخیالات بھی نہیں متضاد الخیالات پارٹیاں وہ ملک کی تمام آج یکجا ہیں، اس کا مطلب ہے کہ قومی یکجہتی تمام پارٹیاں کیوں محسوس کررہی ہیں؟، اس لئے کہ اگر یہ شخص بدستور برقرار رہتا ہے اور عالمی ایجنڈے کی پیروی میں پاکستان کو نقصان پہنچارہا ہے، پاکستان کے دفاع کو نقصان پہنچا رہا ہے، پاکستان کی معیشت، ایٹمی صلاحیت، نظریے کو نقصان پہنچا رہا ہے تو اس کے مقابلہ میں ساری قوتیں یکجا ہوکر قوم یکجہتی، یہ بحرانوں میں ہوتا ہے، سیاسی اختلافات کو بھلانا پڑتا ہے، یکجہتی ہوتی ہے، ایک سیاسی پارٹی کی جعلی حکومت کے مقابلہ میں پوری قوم کو یکجا ہونا اس کی بھی ذرا وجوہات سوچیں۔ سلیم صافی: اس کا مطلب عمران خان بہت بڑی قوت ہے جس نے آپ سب متضاد الخیالات قوتوں کو یکجا کیا؟ مولانا فضل الرحمن: یہی چیز ہے وہ خود کچھ نہیں ہے، اس میں کوئی صلاحیت نہیں ہے، نہ وہ پڑھا لکھا ہے، انگریزی چیخ کر بول لیتا ہے، چھکا مار سکتا ہوگا، گیند پھینک سکتا ہوگا، اس کٹیگری کا لیکن جس قوتوں نے پیچھے سے ان کو یہاں پر پہنچایا ہے اور ان کے جو ایجنڈے ہیں ان کو ہم نے ناکام بنایا ہے۔ سلیم صافی: کون سی قوتیں؟ مولانا فضل الرحمن: آپ جانتے ہیں کہ بین الاقوامی مغربی استعمار یا اس کی قیادت کرنے والا امریکا اس کے خلاف ایک نظریاتی آواز جمعیت علمائے اسلام کے علاوہ پاکستان میں کون ہے، اگر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات ہوئی تو اس کا راستہ جمعیت علمائے اسلام نے روکا ہے، یہ تصور پاکستان کی اساس کے خلاف ہے، فلسطینیوں کے حقوق کو دبانا ہے، بیت المقدس کو دفن کرنا ہے، یہ ساری بحثیں ملک میں چھڑگئیں، اس کے مقابلہ میں سد سکندری کا مظاہرہ ہمارے نوجوانوں نے کیا۔ سلیم صافی: اقوام متحدہ میں اسلامو فوبیا کیخلاف بھرپور تقریر عمران خا ن نے کی؟ مولانا فضل الرحمن: وہ بے اثر ثابت ہوئی، ساری چیزیں نمائش تھی، بات یہ ہے کہ ریاست مدینہ کا لفظ بھی بول لیتا ہے، نمائشوں سے حکومتیں نہیں چلتیں کمٹمنٹ سے چلتی ہیں، آپ کارڈ استعمال کریں گے یا کاز استعمال کریں گے، اسلام ہو، ریاست مدینہ ہو، اینٹی امپریلزم ہو اس پر ہمارا کاز ہے اور آپ نہیں سمجھتے کہ یہ آدمی چیزوں کو بطور کارڈ استعمال کررہا ہے، کارڈ دو دن چلتا ہے تیسرے دن ختم ہوجاتا ہے۔ سلیم صافی: آپ عمران خان کے غیرملکی ایجنٹ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں سامنے لاسکے؟ مولانا فضل الرحمن: میرے خیال میں سیاسی دنیا میں پبلک کو آگاہ کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے بہت سی چیزیں سامنے آگئی ہیں، آج بچے بچے کی زبان پر یہی لفظ ہے کہ یہ بیرونی ایجنٹ ہے، بیرونی ایجنڈے پر پاکستان بھیجا گیا، پہلے اس ملک میں پانامہ کے ذریعہ سیاسی عدم استحکام لایا گیا پھر عمران خان کے ذریعہ اقتصادی عدم استحکام لایا گیا، سی پیک کتنا بڑا منصوبہ ہے اتنے بڑے منصوبے اور چین جیسے دوست پاکستان کی سرمایہ کاری اور امریکا کی خارجہ پالیسی کی یہ بنیاد ٹھہرا کہ اگر کوئی سی پیک کا حامی ہے تو امریکا دشمن ہے، اس نے سی پیک کو فریز کیا، میگا پراجیکٹس کو فریز کیا۔ سلیم صافی: آپ سمجھتے ہیں سی پیک میں رکاوٹ ڈال کر انہوں نے امریکا کی خدمت کی؟ مولانا فضل الرحمن: ظاہر ہے جی، امریکا کی خارجہ پالیسی کا مدار یہی ہے، ہمیں ملکی مفاد کو دیکھنا ہے، ہم امریکا سے بھی یہی کہنا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے مفادات کے دشمن نہیں لیکن اگر آپ پاکستان کے مفاد پر کلہاڑا ماریں گے تو پھر ہمیں اپنے مفاد کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ سلیم صافی: لیکن جوبائیڈن انہیں فون بھی نہیں کرتے اور شہباز شریف سے ملاقات بھی کی؟ مولانا فضل الرحمن: وہ سیاسی معاملات ہیں، اس میں زیادہ تر امریکا کے اندرونی معاملات بھی ہیں کہ اس نے وہاں جاکر ٹرمپ کو سپورٹ کیا، جوبائیڈن کیخلاف اسے سپورٹ کیا، ٹرمپ کا جو داماد تھا جیرڈ کشنر اس کے ساتھ باقاعدہ یاری لگوائی تھی زلفی بخاری نے، پھر اس حد تک قریب ہوگئے کہ میں کسی طرح ٹرمپ کے ذریعہ وائٹ ہاؤس میں پہنچ جاؤں، یہ سارے ڈرامے بش کے زمانے میں بھی کھیلتا رہا ہے کہ میں وائٹ ہاؤس تک رسائی حاصل کرسکوں، اس ساری صورتحال میں جوبائیڈن کا ردعمل تھا جو امریکا کی سیاست میں مداخلت کے حوالے سے اور اس پر ظاہر ہے ان کی ناراضی فطری بات ہے جو ابھی چل رہی ہے، اس کا تعلق پاکستان سے نہیں ہے اس کے اس کردار سے ہے، ایک دفعہ ایک کو لے آیا اپنے اقتصادی مشیر بنانے کیلئے، پبلک نے ہنگامہ کیا، آج پھر وہ لاس اینجلس میں ایک کونسلر کے انتخاب کی سپورٹ میں انٹرویو دے رہا، کیا کام ہے آپ کا دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت کرنے کا، جاتا ہے اپنے سالے کی الیکشن کمپین کیلئے برطانیہ ایک پاکستانی نژاد مسلمان کے خلاف۔ یہ ساری چیزیں کیا دلیل نہیں ہیں؟، جس زیک کے الیکشن میں یہ گیا ہے اس کا جس تنظیم سے تعلق ہے آپ آج بھی دیکھیں اس کا لوگو کیا ہے، کنزرویٹو فرینڈز آف اسرائیل، اس تنظیم کے اسٹیج پر جاکر باقاعدہ اس کیلئے کنوینسنگ کرتا ہے، آپ مجھ سے ثبوت مانگتے ہیں اور کیا ثبوت دوں۔ سلیم صافی: عمران خان کا اپنا لوگو ریاست مدینہ ہے؟ مولانا فضل الرحمن: ایک خاتون اپنے خاوند کے ساتھ آتی ہے اور یہ اس کو اٹھا کر پرائم منسٹر ہاؤس میں دو مہینے یرغمال رکھتا ہے، حبس بے جا میں رکھتا ہے، وہ عدالت میں چلی گئی ہے رونے دھونے کیلئے کہ مجھے کیوں پرائم منسٹر ہاؤس میں حبس بیجا میں رکھا گیا، یہ ریاست مدینہ ہوتی ہے؟، ان کو شرم نہیں آتی، طیبہ گل کی بات کررہا ہوں، یہ ریاست مدینہ ہوتی ہے کہ آپ وزیراعظم ہاؤس کے ایک میاں بیوی کو لمبے عرصے تک کس جرم میں یرغمال بنائے ہوئے حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے اور آپ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں آپ کو شرم نہیں آتی۔ سلیم صافی: یہ ڈھکی چھپی بات نہیں کہ 2018ء کے الیکشن میں ان اداروں نے ہی جن کو اب مسٹر ایکس اور مسٹر وائی کہتے ہیں اسی مسٹر ایکس مسٹر وائی نے ان کی پارٹی میں لوگوں کو شامل کرایا، ان کیلئے آر ٹی ایس فیل کرایا، ان کیلئے پولنگ ایجنٹوں کو نکالا تو پھر وہ یہ کام کیوں کررہے تھے؟ مولانا فضل الرحمن: آپ نے سوال کرلیا تو مجھے اس پر بات کرنی پڑگئی ورنہ ہم اب اس کی تلافی کی طرف جارہے ہیں، اگر ادارے بھی اس کی تلافی کی طرف جاتے ہیں اور انہیں احساس ہوجاتا ہے کہ ہم سے اگر کوئی ایسی بھول چوک ہوئی ہے یا ہم نے کوئی بین الاقوامی دباؤ کے تحت ایسے کام کئے ہیں جس کو میری قوم نے قبول نہیں کیا، عوام نے قبول نہیں کیا اور اس کی تلافی کی طرف آتے ہیں تو موسٹ ویلکم ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ سلیم صافی: اب وہ کہتے ہیں کہ اس ادارے کو تنازع سے بچانے کیلئے اتفاق رائے سے نئے آرمی چیف کا تعین ہونا چاہئے، وہ کہتے ہیں جنرل باجوہ کو ایک مخصوص مدت کیلئے ایکسٹینشن دیا جائے، اس کے بعد فری اینڈ فیئر الیکشن ہوں اور نئی حکومت اس کا انتخاب کرے، آپ جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن کے حق میں ہیں؟ مولانا فضل الرحمن: عمران خان وزیراعظم تھا جعلی تھا یا جو کچھ بھی تھا اس نے کس سے پوچھا؟، اس نے اپنی کابینہ سے پوچھا؟، اپنی پارلیمنٹ سے پوچھا؟، کسی ایک سے مشورہ کیا، تب ہی تو اس نے نوٹیفکیشن کا ڈرافٹ غلط تیار کیا، تب ہی تو معاملہ الجھ گیا تھا دو چار روز تک اسے ٹھیک کرتے کرتے، یہاں تک کہ عدالت نے کہا کہ قانون بناؤ اور پھر قانون سازی کی طرف معاملہ چلا گیا، یہ ساری چیزیں اس نے اپنی ذاتی رائے اور فیصلے کی بنیاد پر کیں، وہ اپنی کابینہ کو بھی اعتماد میں لینے کیلئے تیار نہیں تھا، آج نئی حکومت آگئی، وہ ہوتا کون ہے ہمیں ڈائریکشن دینے والا؟، اس کا کیا حق بنتا ہے، اس کی کیا اوقات ہے کہ ہمیں کہے آپ یوں کریں، آپ یوں کریں، جو بھی فیصلہ ہوگا آئین کے مطابق میرٹ پر ہوگا، جو بھی فیصلہ ہوگا جس منصب کو اس کا اختیار حاصل ہے وہی فیصلہ کرے گا۔ سلیم صافی: آپ ایکسٹینشن کے حق میں نہیں ہیں؟ مولانا فضل الرحمن: میرا سرکاری ملازمین کی ایکسٹینشن، میں نے اس وقت بھی کہا تھا جو صرف ایکسٹینشن کی بات تھی، مجھ سے پریس کانفرنس میں پوچھا گیا تو میں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی ایکسٹینشن اور ریٹائرمنٹ کے معاملات چلتے رہتے ہیں ہم اس کو ایک پولیٹیکل ایشو نہیں بنانا چاہتے لیکن جب آپ نے ڈرافٹ غلط کردیا، ایشو بن گیا، پھر کورٹ میں چلا گیا ، پھر کورٹ نے آپ سے کہا قانون سازی کرو، مسئلہ آپ نے بنالیا تھا، میں تو آج بھی کہتا ہوں کہ ہمیں اسے ایک پولیٹیکل ایشو نہیں بنانا چاہئے، اگر اس کی مدت پوری ہوگئی ہے تو یہ پرائم منسٹر کا اختیار ہے کہ اس کو جانے دیتے ہیں یا اس کا اختیار ہے کہ ضرورت ہے تو اس کو روکتے ہیں۔