پیوٹن سے ملاقاتیں، سفارتی مراسلہ ملا نہ حکومت کے خلاف سازش مشترکہ پریس کانفرنس، جھلکیاں

15 اکتوبر ، 2022
اسلام آباد (محمد صالح ظافر، خصوصی تجزیہ نگار) وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف، پروفیسراحسن اقبال، محترمہ مریم اورنگزیب، سینیٹر مصدق ملک، سید طارق فاطمی اور عطاء اللہ تارڑ نے مشترکہ نیوزکانفرنس سے خطاب کیا وفاقی سیکریٹری اطلاعات ، حکومت پاکستان کے پرنسپل انفارمیشن افسر مبشر حسن اور وزیراعظم کے پریس سیکریٹری عبدالاکبر خان بھی اس دوران موجود رہے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف جو اس دورے میں شامل تھے استفسار پر بتایا کہ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن سے وزیراعظم شہباز شریف کی باردگر ملاقات ہونی ہے وہ حالیہ مہینوں میں ان سے چار یا پانچ مرتبہ مل چکے ہیں اس پر ان سے دریافت کیا گیا کہ پوٹن سے اتنی ملاقاتوں کے باوجود کوئی ’’سفارتی مراسلہ‘‘ ملا اور نہ ہی حکومت کے خلاف کوئی ’’سازش‘‘ کا ماجرا ہوا اس کا سبب کیا ہے؟ اس پر زور دار قہقہہ پڑا۔ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جمعہ کی شام ایوان وزیراعظم میں اس وقت مایوسی کا سامناہوا جب انہیں کم وبیش ایک گھنٹے کے تھکادینے والے انتظار کے بعد مطلع کیا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف سلامتی کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس میں شرکت کے باعث نیوز کانفرنس کے لئے دستیاب نہیں ہوسکیں گے اس دوران بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ دیگر اعلی حکام کے ہمراہ وزیراعظم سے ملاقات میں مصروف رہے۔ مہمان نمائندوں کو قبل ازیں پون گھنٹے تک آڈیٹوریم کے باہر منتظر رہنا پڑتاہم وزارت اطلاعات و نشریات کے سینئر حکام نے انہیں تبادلہ خیال کے ذریعے بوریت سے بچائے رکھا۔مشترکہ نیوز کانفرنس میں قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں منعقدہ سیکا کانفرنس کے بارے میں بریفنگ دی جانا تھی جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے تقریباً چالیس غیر ملکی سربراہان حکومت و مملکت سے ملاقات کی ان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے بعض سربراہان بھی شامل تھے جن سے وزیراعظم گزشتہ ماہ بھی مل چکے تھے۔ خواجہ آصف اکثر اوقات اپنی گفتگو میں لطیف جملوں سے ماحول کو کثیف نہیں بننے دیتے وہ پیپلزپارٹی کے رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن چوہدری سے بہت شاکی تھے جنہوں نے بری فوج کی قیادت کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ ٹویٹ جاری کیا تھا۔