لندن (مرتضیٰ علی شاہ) دبئی میں مقیم پاکستانی بزنس مین عمر ظہور کے خلاف انٹرپول کے جاری “ریڈ نوٹس” واپس لے لئے گئے۔ انٹرپول نے عمر فاروق ظہور کا نام مطلوب افراد کی فہرست سے نکال دیا، عمر ظہور کے خلاف مقدمہ ایف آئی اے نے سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر کی نگرانی میں شروع کیا گیا تھا۔ عمر ظہور کی سابقہ اہلیہ اداکارہ صوفیہ مرزا نے شہزاد اکبر کی مدد سے عمر ظہور کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ شہزاد اکبر نے ایف آئی اے کو عمر ظہور کے خلاف ہر قیمت پر کارروائی کرنے کا ٹاسک دیا تھا۔ لیون میں انٹرپول کے جنرل سیکرٹریٹ نے عمر ظہور کے خلاف ریڈ نوٹس واپس لینے کی تصدیق کردی۔ تصدیق نامے میں درج ہے کہ “کمیشن نے مناسب جانچ پڑتال کے بعد فیصلہ کیا ہے”، انٹرپول کمیشن چار ارکان، امریکا، برطانیہ، لبنان اور مراکش پر مشتمل ہے۔ ایف آئی اے کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے بعد انٹرپول نے ریڈ نوٹس کی واپسی کا فیصلہ کیا۔ عمر ظہور کے خلاف ایف آئی اے زون ون لاہور نے کیس شروع کیا تھا۔ ایف آئی اے کی درخواست پر لائبیریا کے گشتی سفیر عمر ظہور کے نام انٹرپول نے ریڈ نوٹس جاری کیا تھا۔ تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ صوفیہ مرزا نے شہزاد اکبر کو مدد کرنے کو کہا تھا۔