آرٹیکل 63 اے کے تحت اظہار رائے کی آزادی کا استعمال ووٹ ڈالتے ہوئے نہیں ہوسکتا، سپریم کورٹ

15 اکتوبر ، 2022

اسلام آباد(جنگ رپورٹر)عدالت عظمیٰ نے اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کی جانب سے سیاسی جماعت کی پالیسیوں سے انحراف سے متعلق آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے حوالے سے دائر صدارتی ریفرنس اور آئینی درخواستوں پراکثریتی ججز کا تفصیلی فیصلہ جاری کر تے ہوئے قراردیاہے کہ اراکینِ پارلیمنٹ کو اظہارِ رائے کی مکمل آزادی حاصل ہے لیکن اظہارِ رائے کی اس آزادی کا استعمال آرٹیکل 63 اے کی روشنی میں ووٹ ڈالتے ہوئے نہیں ہو سکتا ،نااہلیت مدت کا تعین پارلیمنٹ کرے، پالیسی کیخلاف ووٹ پر 63 اے کا اطلاق ہوگا، رکن پارلیمنٹ وصوبائی اسمبلی کا پارٹی ہدایات کیخلاف ووٹ ڈالنا پارلیمانی جمہوری نظام کیلئےتباہ کن ہے اسلئے منحرف رکن کا پارٹی ہدایات کیخلاف ڈالا گیا ووٹ گنتی میں شمار نہیں ہوگا تاہم منحرف رکن کی عوامی عہدہ کیلئے نااہلیت کی مدت کا تعین پارلیمنٹ خود کرناچاہئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن ،جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بنچ نے صدارتی ریفرنس ،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی درخواستوں کی سماعت کی ، 95صفحات پر مشتمل یہ تفصیلی اکثریتی فیصلہ جسٹس منیب اختر نے قلمبند کیا ہے۔عدالت نے قراردیاہے کہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈالے جانے والے ووٹ کو گنتی میں شمار نہیں کیا جائیگا۔ پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ دینے کی صورت میں ان پرآرٹیکل 63 اے کا اطلاق ہوگا ، اگر اراکین کے پارٹی پالیسیوں سے انحراف کو نہ روکا گیا تو سیاسی جماعتوں میں منصفانہ مقابلہ نہیں ہوسکے گا،منحرف رکن ازخود ڈی سیٹ نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ اسے ڈی سیٹ کروانے کا اختیار پارٹی سربراہ کے ہاتھ میں ہے تاہم منحرف رکن کا ووٹ ازخود ضائع تصور ہوگا ۔