پاکستانی خط و کتابت کا ماضی کا ریکارڈ ’ناقابلِ سراغ‘

15 اکتوبر ، 2022

اسلام آباد (قاسم عباسی) وزارت خارجہ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ، چین اور سابق سوویت یونین کے ساتھ پاکستان کی سرکاری خط و کتابت کا اپنا ماضی کاریکارڈ ’ناقابل سراغ‘ ہے۔ وزارت نے یہ بات شبیر اعوان کی جانب سے دائر کی گئی اپیل کے بعد پاکستان انفارمیشن کمیشن کے جاری کردہ حکم نامے کے جواب میں لکھی جنہوں نے معلومات تک رسائی کے حق ایکٹ 2017 کے تحت آغاز میں ایم او ایف اے سے معلومات کی درخواست کی۔ شبیر اعوان کی درخواست کردہ سوالات کا حصہ (نقطہ 5-8) دی نیوز کے پاس موجود ہے جس کا ایم او ایف اے نے ناقابل سراغ ہونے کا دعویٰ کیا تھا وہ درج ذیل تھے؛ 5۔ برائے مہربانی مجھے درج ذیل کی مصدقہ کاپیاں فراہم کریں: 6۔ پاکستان اور سوویت یونین کے درمیان 1948 سے دسمبر 1949 تک خط و کتابت۔ 7۔ پاکستان اور یو ایس ایس آر کے ساتھ ساتھ پاکستان اور امریکہ کے درمیان 1960 کے یو ٹو واقعے سے متعلق خط و کتابت۔ 8۔ اپریل 1971 سے اکتوبر 1971 تک پاکستان کی یو ایس ایس آر، امریکا اور چین کے ساتھ خط و کتابت۔ پی آئی سی کے حکم کے جواب میںایم او ایف اے نے 21 ستمبر کو پی آئی سی کو خط لکھا جس میں اس نے کہا آرکائیوز سیکشن اور وزارت خارجہ کے متعلقہ علاقائی ڈویژنوں کے ریکارڈ کا بغور جائزہ لینے کے بعد پیرا 5-8 میں مذکور دستاویزات ناقابل سراغ ہیں۔ تاہم حتمی جواب دینے کے لیے کافی وقت درکار ہو سکتا ہے۔ 24 اگست کو شبیر اعوان کی جانب سے معلومات کے حق ایکٹ 2017 کے تحت کی گئی درخواست پر کوئی جواب جمع نہ کرانے پرایم او ایف اے کے خلاف دائر اپیل کے جواب میں پی آئی سی کی جانب سے حکم جاری کیا گیا ۔ دی نیوز کے پاس موجود دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ اپیل کنندہ نے پرانے ریکارڈ تک رسائی مانگی ہے اور ان ریکارڈز کے افشاء کی ضمانت ایکٹ 2017 کی دفعہ 16 (1) (k) کے تحت دی گئی ہے۔ فائل پر موجود ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ مدعا علیہ نے 29 اپریل 2022 کو اس کمیشن کے نوٹس پر اپنا جواب جمع نہیں کرایا۔ دی نیوز نے ایم او ایف اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے ترجمان محمد عمر شیخ سے بھی رابطہ کیا، لیکن افسوس کی بات ہے کہ جب ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نمائندے کو عمر کی جانب سے وزارت کی طرف سے سرکاری جواب کی یقین دہانی کرائی گئی تاہم کوئی جواب نہیں آیا۔