بھارتی جیلوں میں قید کشمیری رہنماؤں کے قتل کا خدشہ ہے، برطانوی کشمیری رہنما

15 اکتوبر ، 2022

بریڈفورڈ (محمد رجاسب مغل )کُل جماعتی بین الاقوامی کشمیر رابطہ کمیٹی کے سرپرست حافظ فضل احمد قادری، صدر چوہدری شاہنواز خان، سیکرٹری جنرل صاحبزادہ محمد فاروق قادری، ترجمان ساجد یوسف،سابق صدر چوہدری محمد عظیم، جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹرنیشنل کے سرپرست سردارعبدالرحمان خان ، بانی چیئرمین راجہ نجابت حسین ،چیئرپرسن کونسلر یاسمین ڈار،چیئر پرسن نارتھ آف انگلینڈ کونسلر نائلہ شریف، چیئر پرسن ویسٹ مڈ لینڈز آسیہ حسین و دیگر نے مشترکہ اعلامیہ میں کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے الطاف احمد شاہ کی بھارتی جیل میں شہادت سے بھارت کا کشمیریوں کی نسل کشی کرنے کا انتہائی خطرناک منصوبہ منظر عام پر آگیا۔ جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹرنیشنل کے بانی چیئرمین راجہ نجابت حسین نے بطل حریت وعظیم کشمیری رہنما سید علی گیلانی کے داماد الطاف احمد شاہ کی بھارتی جیل میں شہادت پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے شدید تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا ہے، کشمیری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ الطاف احمد شاہ (شہید) کو شدید بیماری کی حالت میں بھی بھارتی ظالم جابر افواج اور بزدل بھارتی حکومت نےطویل عرصے تک قید میں رکھا اور بد ترین تشدد کا نشانہ بناتے رہے، الطاف احمد شاہ (شہید) کی شہادت سے پوری دنیا میں کشمیریوں کی جدو جہد آزادی مذید تیز ہو گی اور اب مسئلہ کشمیر کے حل کا وقت بھی آن پہنچا ہے۔ بھارتی جیلوں میں قید کشمیری حریت رہنماؤں کو بھارتی حکومت اور بھارت افوا ج اسی طرح بد ترین ظالمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کر دیں گے اور پوری عالمی برادری صرف بھارت کا منہ تکتی رہ جائے گی، اس سے پہلے بھی بھارت جہاں لاکھوں کی تعداد میں کشمیریوں کو شہید کر چکا ہے وہیں گذشتہ عرصے میں بھارت نے معروف کشمیری رہنما سید علی گیلانی کو ان کے گھر میں نظر بند کر کے شہید کر دیا،اشر ف صحرائی، عبدالحمید بٹ و دیگر کشمیریوں کو بھارتی جیلوں میں قید کے دوران شہید کر دیا، بھارت کھلم کھلا کشمیریوں کی نسل کشی کرنے میں مصروف ہے، کشمیری رہنما محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، ڈاکٹر فکتو و دیگر کو تاحال بھارت نے جیلوں میں قید کر رکھا ہے اور ان پر بدترین تشدد جاری ہے جس سے یہ خدشات لاحق ہو چکے ہیں کہ بھارت ان کشمیری رہنماؤں کو بھی اسی طرح تشدد کر کے شہید کر دے گا۔ بیرون ممالک بسنے والے کشمیری حکومت پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر جائےاور مسئلہ کشمیر کو دنیا کے تمام ممالک میں کشمیری رہنماؤں کی موجودگی میں اجاگر کرے اور کشمیری رہنماؤں کی موجودگی میں مسئلہ کشمیر کا فوری اور مستقل حل نکالا جائے تا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھارتی تسلط سے جلد از جلد آزادی دلوائی جا سکے اور کشمیری قوم کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کےمطابق حق خود ارادیت دلوایاسکے۔ رہنماؤں نے کہا کہ ہم سب تمام کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکرتے ہیں اور تحریک آزادی کشمیر کے تمام شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ 24 اکتوبر کو تمام کشمیری یوم تجدید عہد بھرپور انداز میں منائیں گے۔ 27 اکتوبر کو بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر پرناجائز قبضے کے خلاف مظاہرے کئے جائیں گے اور عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کراوائی جائے گی، اس سلسلہ میں کل جماعتی بین الاقوامی کشمیر رابطہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس 14 اکتوبر کو برمنگھم میں منعقد کیا جا ئے گا اور 15 اکتوبر کو جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹرنیشنل کی جانب سے برطانیہ کے شہرگریٹر مانچسڑ میں آل پارٹیز انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس بھی منعقد کی جائےگی۔راجہ نجابت حسین اور چوہدری شاہنواز نے اپنی اپنی تنظیموں کے رہنماؤں کو خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں اور تمام سرگرمیاں مشاورت سے اور مشترکہ تعاون کے ساتھ کی جائیں گی اور مسئلہ کشمیر کوپوری دنیا میں اُجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کے فوری، پر امن اور مستقل حل کے لئے ہر عالمیفورم پر بھرپور انداز میں تمام سفارتی، سیاسی، سماجی و دیگر محاذوں پرمضبوط لابی کی جائے گی اورزیادہ سے زیادہ عالمی اثر و رسوخ رکھنے والے اداروں اور افراد کے ساتھ رابطوں کو تیز کیا جائے گا۔