کاربن کے صفر اخراج کیلئے شمسی، ہوائی اور آبی توانائی کو دگنا کرنا ہوگا، سائنس داں

15 اکتوبر ، 2022

جنیوا(نیوز ڈیسک)ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہےکہ اس سے پہلے کہ موسمیاتی تغیر ہمارے توانائی کے ذرائع کو نقصان پہنچانا شروع کردے، صاف توانائی کی عالمی فراہمی کو آئندہ آٹھ برس میں دگنا کرنا ہوگا۔عالمی موسمیاتی ایسوسی ایشن کے سائنس دانوں نے کا کہنا ہے کہ توانائی کی پیداوار کے ذرائع (شمسی، ہوائی اور آبی) توانائی کی کارکردگی اور صاف توانائی کے مستقبل کے لیے اہم ہیں۔البتہ موسمیاتی تغیر کا موسم پر جو پہلے سے طے شدہ اثر ہونے والا ہے اس کا مطلب ہے کہ قبل از وقت خبردار کرنے والے نظام کوشدید موسمیاتی وقوعات سے بچائیں تاکہ توانائی کے ذرائع ،بشمول قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو پہنچنے والے نقصانات سے بچایا جاسکے۔اس رپورٹ میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے کہ ہم کس طرح صاف توانائی پیدا کر کے 2050 تک صفر اخراج کے اہداف کو حاصل کرسکتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ موسمیاتی تغیر کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے توانائی کی تبدیلی کو اولین ترجیح ہونا چاہئے اور ملکوں کو اس شعبے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ادارے کے سیکرٹری جنرل پروفیسر پیٹیری ٹالَس کا کہنا تھا کہ توانائی کا شعبہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں تقریباً تین چوتھائی حصہ ڈالتا ہے۔انہوں نےکہا کہ اگر ہم اکیسویں صدی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو 2050 تک صفر اخراج مقصد ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس منزل تک تب ہی پہنچ سکیں گے اگر ہم کم اخراج والی بجلی کی فراہمی کو آئندہ آٹھ برس میں دگنا کردیں، ہمارے پاس وقت نہیں ہے اور موسم ہماری آنکھوں کے سامنےبدل رہا ہے۔