نجی کرائے کے مکانوں میں ممکنہ مہلک خرابیوں کی شکایت پر کونسلز ایسے کرایہ داروں کو نظر انداز کرتی ہیں، رپورٹ

15 اکتوبر ، 2022

لندن (پی اے) بی بی سی کی ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جو کرایہ دار نجی طور پر کرائے کے مکانوں میں خطرناک یا ممکنہ طور پر مہلک خرابیوں کی شکایت کرتے ہیں، انہیں کونسلوں کی طرف سے نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ جب لینڈ لارڈ خطرات بشمول سنگین خرابیاں کو ٹھیک کرنے میں ناکام رہتے ہیں جوکہ صحت کے لئے فوری خطرہ بنتی ہیں تو انگلینڈ میں کونسلوں کا قانونی فرض ہے کہ وہ کارروائی کریں لیکن بی بی سی نیوز نے دیکھا ہےکہ کونسلوں کی جانب سے نفاذ کے اختیارات استعمال کرنے کی تعداد رپورٹس کی تعداد سے بہت کم ہے۔ کونسلوں کی نمائندگی کرنے والی ایل جی اے کا کہنا ہے کہ رسمی نفاذ ایک ’’آخری حربہ‘‘ ہے۔ بی بی سی نیوز نے انگلینڈ میں کونسلوں سے پوچھا کہ پچھلے پانچ برسوںمیں انہوں نے کتنے خطرات کو ایک یا دو کیٹیگری میں درج کیا ہے۔ یہ بھی پوچھا کہ اس وقت انہوں نے کتنی بار نفاذ کے اختیارات استعمال کئے تھے۔ تمام کونسلیں معلومات فراہم نہیں کر سکیں۔ 60فیصد کونسلوں کا تجزیہ کیا گیا، جس کے مطابق مجموعی طور پر 135687خطرات ریکارڈ کئے گئے، جن میں 42654کٹیگری ایک کے خطرات شامل تھے، جنہیں حفاظت کیلئے فوری خطرہ لاحق سمجھا جاتا ہے۔ اسی عرصے میں صرف 25243مواقع پر کونسلوں کی طرف سے رسمی کارروائی کی گئی جبکہ رجسٹرڈ غلطیوں میں سے 1فیصد سے بھی کم پر مقدمہ چلایا گیا۔ ہاؤسنگ چیرٹی شیلٹر نے کہا کہ پورا نظام ’’کار کریش‘‘ تھا۔ نمبر صرف انگلینڈ پر لاگو ہوتے ہیں کیونکہ سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں ضابطے کے مختلف نظام موجود ہیں۔بی بی سی نے کئی کرایہ داروں سے بات کی ہے، جنہوں نے پھپوند ی کی شکایت کی تھی اور ساتھ ہی لندن میں ایک ماں نے کہا کہ ناکافی حرارت اور موصلیت نے ان کے بچوں کو بیمار کر دیا ہے۔ بلیک پول کا رہائشی پال اسمتھ ایک فلیٹ میں رہتا ہے، جس کی وجہ سے وہ شدید خطرے سے دوچار ہے۔ اب وہ کہتے ہیں کہ باورچی خانے کا فرش تہہ خانے میں پراپرٹی کے برقی نظام پر گر رہا ہے جوکہ خطرناک ہے۔ یہ مجھے ڈراتا ہے، مجھے لگتا ہے کہ یہ کسی بھی وقت گر سکتا ہے۔ پال کا کہنا ہے کہ اس نے سب سے پہلے اپنے لیٹنگ ایجنٹ سے متعدد مسائل کے بارے میں شکایت کی، جس میں اس کے باتھ روم میں ٹوٹا ہوا سنک اور ٹائلٹ کا رسنا بھی شامل ہے، جو اس کے بقول پھپوندی اور نمی کا سبب بن رہے ہیں۔ جب اس نے کونسل کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا تو وہ کہتے ہیں کہ افسران نے اس کے گھر میں آگ لگنے کا خطرہ سمجھا۔ وہ کہتا ہے کہ وہ خود کو پھنسا ہوا محسوس کر رہا ہے۔ بلیک پول کونسل نے کہا کہ اس نے پال کی شکایت کے جواب میں ان کے گھر کا معائنہ کیا، افسران نے اس سال جون میں اس کے مالک مکان کو کام مکمل کرنے کا شیڈول بھیجا تھا۔ چونکہ اس پر عمل نہیں کیا گیا، کونسل نے اب بہتری کا نوٹس لگایا ہے، جو کارروائی کے لئے ایک ٹائم فریم متعین کرتا ہے۔ مالک مکان کی جانب سے کام کرنے والے ایک ایجنٹ نے جائیداد کے گرنے کے خطرے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ گیلے ہونے کے باوجود فرش ٹھوس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مالک مکان اب مطلوبہ کام کرنے کے لئے تخمینہ لگا رہا ہے۔ نجی کرائے کا شعبہ 4.4 ملین سے زیادہ گھرانوں کا گھر ہے، جو کہ انگلینڈ کے تمام گھرانوں کا تقریباً پانچواں حصہ ہےلیکن حالیہ انگلش ہاؤسنگ سروے کے مطابق کرائے پر دی گئی جائیدادوں میں رہائش کے معیارات میں ناکامی کا سب سے زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اس میں نصف ملین سے زیادہ نجی کرائے کی جائیدادیں شامل ہیں، جن کی دیکھ بھال اس قدر ناقص ہے کہ انہیں شدید چوٹ یا موت کا خطرہ لاحق ہے۔ شیلٹر کے چیف ایگزیکٹو پولی نیٹ نے کہا کہ اس کا پیمانہ بہت بڑا ہے، ہمارے پاس اس ملک میں نجی کرائے پر 11 ملین لوگ ہیں۔ یہ تمام نوجوان پیشہ ور افراد نہیں ہیں، ان میں سے کچھ لوگ خاندان اور بوڑھے لوگ ہیں، جو کئی برسوں سے کرائے پر رہنے والے ہیں۔ یہ ایک بحران ہے۔ بی بی سی کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد پارلیمانی ہاؤسنگ کمیٹی کے چیئرمین لیبر ایم پی کلائیو بیٹس نے کہا کہ لوگوں کی حفاظت اور جانوں کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکام نجی کرایہ داروں کو ناکام کر رہے ہیں اور کرایہ داروں کو محفوظ بنانے کے لئے واقعی مقدمہ چلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کچھ معاملات میں کونسلز اسے ترجیح نہیں دے رہی ہیں، جو ہونا چاہئے لیکن زیادہ تر معاملات میں کونسلوں کے پاس فنڈ کی شدید کمی ہے۔ ہاؤسنگ اور کمیونٹیز کے لئے لیولنگ اپ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے کہا کہ وہ غیر محفوظ رہائش گاہوں کو کرایہ پر دینے والے بدمعاش لینڈ لارڈز کی قلیل تعداد کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کرایہ داروں کے لئے منصفانہ ڈیل کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔