راچڈل (نمائندہ جنگ) انگلینڈ میں ایک ہفتے کے دوران کوویڈ وائرس کی شرح میں ایک تہائی اضافہ دیکھا گیا ہے، ہر 28میں سے ایک شخص متاثر ہے، 70سال سے زائد عمر کے افراد میں کیسز کی تعداد بڑھنے کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے، سرکاری اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ میں ایک بار پھر عالمی وبا زور پکڑرہی ہے ، دفتر برائے قومی شماریات (او این ایس) کے شماریات دانوں کا تخمینہ ہے کہ انگلینڈ میں 3اکتوبر تک ہفتے کے کسی بھی دن 1.5 ملین سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ایک ہفتہ پہلے ریکارڈ کیے گئے 1.1ملین پر کیسز کی تعداد 36فیصد سے زیادہ ہے ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں بھی اضافہ ہوا لیکن اسکاٹ لینڈ میں رجحان غیر یقینی تھا، ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ سب سے زیادہ کمزور عمر رسیدہ گروپ متاثر ہو سکتے ہیں جنہیں موسم سرما کے دوران کڑی نگرانی کی ضرورت ہو سکتی ہے ایلرڈیل’’بیرو‘‘انفرنس، کارلیس، کوپ لینڈ، ایڈن اور ساؤتھ لیک لینڈ میں رہنے والے تقریباً 3.57 فیصد لوگ یہ سب کمبریا میں ہیں ایک ہفتے کے دوران متاثر ہوئے ماہرین کو خدشہ ہے کہ آنے والے ہفتوں میں صورتحال میں تیزی آجائے گی کچھ لوگوں نے پہلے ہی وزراء سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت قوانین کو واپس لائیں بعض ہسپتالوں نے پہلے ہی زائرین اور مریضوں کے لیے ماسک کی ضروریات کو دوبارہ نافذ کر دیا دوسروں نے وبائی امراض کے تاریک دنوں کی یاد دلانے والے مناظر میں معاشرتی دوری کے رہنما خطوط کو واپس لایا ہے، تاہم تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کوویڈ ہسپتال میں داخل ہونے کی رفتار پہلے ہی سست ہو رہی ہے 10 اکتوبر کو تقریباً 1275 افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے جو ایک ہفتہ قبل 1344 کے مقابلے میں 5 فیصد کم تھے یہ این ایچ ایس کی بڑھتی ہوئی ہڑتالوں کے درمیان سامنے آیا ہے، گزشتہ رات ہیلتھ سیکرٹری تھیریس کوفی نے نرسوں کو بتایا جو اپنی تنخواہ سے ناخوش ہیں وہ چھوڑنے کے لیے آزاد ہیں۔ کوویڈ 19انفیکشن سروے کی ڈپٹی ڈائریکٹر سارہ کرافٹ نے کہا ہے کہ برطانیہ کے بیشتر حصوں میں انفیکشن دوبارہ بڑھ گئے ہیں حالیہ ہفتوں کے دوران مسلسل اضافے کے انداز کو جاری رکھتے ہوئے حالانکہ اسکاٹ لینڈ اور انگلینڈ کے شمال مشرق میں غیر یقینی رجحانات تھے ہم نے انگلینڈ اور ویلز میں بڑی عمر کے گروپوں میں انفیکشن میں ایک اور قابل ذکر اضافہ بھی دیکھا ہے جس نے ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ جب ہم سرد مہینوں سے گزر رہے ہیں تو قریبی نگرانی کی ضرورت ہے کمبریا کے علاقوں کے بعد گریٹر مانچسٹر کے ٹیمسائیڈ میں برطانیہ میں انفیکشن کی شرح سب سے زیادہ تھی جس میں ہفتے کے دوران 3.31 فیصد وائرس انفیکشن سامنے آئے اس کے بعد گریٹر مانچسٹر میں ہالٹن، وارنگٹن اور ٹریفورڈ (3.26 فیصد)، چیشائر ویسٹ اور چیسٹر (3.22 فیصد) اور لنکن شائر میں بوسٹن، ایسٹ لنڈسے، لنکن، نارتھ کیسٹیون، ساؤتھ ہالینڈ، ساؤتھ کیسٹیون، ویسٹ لنڈسے (بھی) 3.22 فیصد سرفہرست ہیں۔
ا ولڈہم پاسبان صحابہ برطانیہ کے چیئرمین محمد عمر توحیدی نے کہا ہے کہ فاتح عرب و عجم سیدنا معاویہ بن ابو سفیان...
پیرس میاں نواز شریف کے وژن کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صوبہ کو ترقی یافتہ بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ یہ...
ویانامسلم لیگ ن آسٹریا کے صدر چوہدری علی شرافت نے روزنامہ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم نے دیکھا کہ...
اوسلوسفیر پاکستان ناروے سعدیہ الطاف قاضی نے صحافی ناصر اکبر کو عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کی مبارک باد دی اور...
برازیلیا برازیل میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث10سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔ خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق...
لندن ایک85سالہ خاتون برینڈا گنتھر عرف لالی پاپ لیڈی 40سال کی ملازمت کے بعد ریٹائر ہوگئیں۔ برینڈا گنتھر عرف...
مانچسٹرانگلینڈ میں ہونیوالے ٹیسٹوں اورنمونہ جات میں پینے والے پانی کے کیمیکلز آلود ہونے کی تصدیق کے بعد...
سیول یوکرین جنگ میں روس کی جانب سے لڑنے والے شمالی کوریا کے تقریباً 300 فوجیوں کی ہلاکت کا انکشاف ہوا ہے۔ جنوبی...