لیسٹر شائر پولیس افسر کو ٹرولز کی آن لائن ابیوز کا سامنا

15 اکتوبر ، 2022

لندن (پی اے) لیسٹر شائر پولیس کے ایک ہیٹ کرائم افسر کے آن لائن ابیوز کا سامنا کرنے کے بعد انویسٹی گیشن کا آغاز کر دیا ہے۔ سومایا بہی نے ٹوئٹر پر اپنے کردار کے بارے میں ایک پوسٹ میں اپنا تعارف کرایا لیکن پھر انہیں ٹرولز کی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹوئٹ کے جوابات میں نسل پرستانہ، اسلاموفوبک اور بدتمیزی مبنی زبان کے علاوہ ان کی ظاہری شکل کے بارے میں تبصرے شامل تھے۔ تاہم ان میں ان کی اور ان کے کردار کی سپورٹ کرنے والی پوسٹس اور ان کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی مذمت بھی شامل تھی۔ فورس کا کہنا ہے کہ اس نے ٹوئٹر پر نازیبا تبصروں کی اطلاع دی ہے اور اپنی انکوائری شروع کر دی ہے۔ پولیس ترجمان نے کہا کہ ہم اپنے ہیٹ کرائم آفیسر کو کئی طریقوں سے سپورٹ فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناقابل قبول میسیجز ٹوئٹر کو رپورٹ کر دیئے گئے ہیں اور ہم نے اپنی انکوائری شروع کر دی ہے۔ لیسٹر ساؤتھ سے لیبر ایم پی جان ایشورتھ نے کہا کہ ابیوز بالکل ناقابل قبول ہے۔ میں سومایا کو جانتا ہوں اور وہ شاندار آفیسر ہے۔ پولیس کو ان لوگوں سمیت ٹرولز کی مکمل چھان بین کرنی چاہئے جو گمنام اکاؤنٹس کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔ لیسٹر یہ کہنے کیلئے متحد ہے کہ ہم نفرت سے تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ ٹوئٹ کے کچھ جوابات جو پیر 3 اکتوبر کو لیسٹرشائر پولیس سٹی سیف اکاؤنٹ پر پوسٹ کئے گئے تھے، میں لیسٹر میں حالبہ بدامنی کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے، جس میں بنیادی طور پر مسلم اور ہندو کمیونٹیز کے نوجوان شامل تھے۔