فرانس میں معاشی بدحالی کیخلاف ہزاروں افراد کا مظاہرہ، پولیس کیساتھ جھڑپیں

17 اکتوبر ، 2022

کراچی (نیوز ڈیسک) فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہزاروں افراد نے ملک میں مہنگے ہوتے معیارِ زندگی اور بگڑتی معاشی صورتحال کیخلاف مظاہرہ کیا۔ ملک میں بڑی ریفائنریوں کے ملازمین نے بھی ہڑتال شروع کر دی ہے جبکہ پٹرول اور گیس اسٹیشنز بند کر دیے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، مظاہرے کی قیادت سابق صدارتی امیدوار اور بائیں بازوں کی جماعت ایل ایف آئی پارٹی کے رہنما ژاں لوک میلن چون کر رہے تھے۔ مظاہروں میں بائیں بازو کی دیگر جماعتوں نے بھی شرکت کی اور صدر ایمانوئیل میکروں سے معاشی حالات بہتر کرنے اور بگڑتی ماحولیاتی تبدیلی کو بہتر کرنے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔ تاہم، معاشی تحفظات سر فہرست ہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ عوام کا مظاہرہ ہے جو بھوکے ہیں اور سردی سے تنگ ہیں، اور چاہتے ہیں انہیں بہتر تنخواہیں دی جائیں۔ ایل ایف آئی کے ڈپٹی مینن آبری نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی مہنگائی نا قابل یقین حد تک نقصان پہنچا رہی ہے، گزشتہ 40؍ برسوں میں پہلی مرتبہ عوام کی قوت خرید متاثر ہو رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ فرانس میں اس وقت مہنگائی کی شرح 6؍ فیصد ہے جبکہ بجلی و گیس کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے ملک کے صنعتی شعبے کی پیدوار بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ یورپی یونین نے روس سے ایندھن خریدنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ جیسے جیسے بجلی و گیس کے بلوں میں اضافہ ہو رہا ہے، ملک میں لکڑیاں جلانے کا قدیم رجحان دوبارہ مقبول ہو رہا ہے جس سے ماحولیاتی بگاڑ بھی بڑھ رہا ہے۔ مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں، پولیس نے کئی مقامات پر مظاہرین پر آنسو گیس فائر کیے۔