الیکشن کمیشن آف پاکستان کے منگل کو سنائے گئے فیصلے کے بعد یہ امکانات قوی ہوگئے ہیں کہ صوبہ سندھ کے دو ڈویژنوں کراچی اور حیدرآباد میں انتخابات کا دوسرا مرحلہ 15جنوری 2023ء کو پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔ شیڈول کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے اس مرحلے کی پولنگ 24جولائی کو ہونی تھی مگر ملک بھر خصوصاً صوبہ سندھ کے انتہائی غیر معمولی بارشوں اور سیلاب کی لپیٹ میں آنے کی صورتحال کے باعث انہیں دو بار ملتوی کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے سندھ حکومت کی کراچی اور حیدرآباد ڈویژنز میں بلدیاتی الیکشن 90 روز کے لئے ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے 15جنوری 2023ء کو منعقد کرانے کی ہدایت کے ساتھ آئین کی شق 220 کے تحت حکومت سندھ، چیف سیکرٹری سندھ اور آئی جی سندھ سے کہا ہے کہ وہ اس باب میں خاص سیکورٹی انتظامات کریں۔ واضح رہے کہ مذکورہ بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ پہلی بار 18اکتوبر کو ہوا تھا۔ تیسری بار 90 روز کے لئے التوا کے سندھ حکومت کے فیصلے کے بعد درخواست کی سماعت کے دوران پانچ رکنی الیکشن کمیشن نے فریقین کا موقف سننے کے بعد 15نومبر کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ 22نومبر کو سنائے گئے فیصلے میں وفاقی حکومت کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وزارت داخلہ کے ذریعے سیکورٹی اہلکار فراہم کرے تا کہ کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں پرامن انداز میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جا سکے۔ بلدیاتی ادارے جمہوری نظام کی نرسریا ہیں جن کے ذریعے نئی قیادت ابھرتی اور پھر صوبائی ووفاقی سطح کی منازل کی طرف بڑھتی ہے۔ جمہوریت کی ان نرسریوں کی صوبائی اور وفاقی سطح پر جتنی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، اتنی ہی جمہوری روایات پروان چڑھتی اور اچھی قیادت سامنے آنے کے امکانات بڑھتے ہیں ۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں سیاسی حکومتوں کے ادوار میں نئی قیادت سامنے آنے کے راستے مسدود نظر آئے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی طرف سے بلدیاتی انتخابات سے گریز یا ان میں تاخیر کے حربے استعمال کئے گئے جبکہ مارشل لا جو بنیادی حقوق کو روندتا اور آئین پر خط تنسیخ پھیرتا ہوا آتا ہے، کئی بلدیاتی انتخابات کا ذریعہ بنا جن کے ذریعے سامنے آنے والے لیڈروں نے صوبائی و ملکی سطح پر بھی نام کمایا۔ جمہوری نظام پارلیمانی ہو یا صدارتی، اس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں اور پارلیمانی ایوانوں کا کام اپنی اپنی سطح کی قانون سازی، پالیسی سازی اور دیگر امور ہوتے ہیں۔ سڑکوں، گلیوں کی تعمیر، کوڑے کرکٹ کے صفائی، سیوریج، مارکیٹوں میں اشیا کی دستیابی و پرائس کنٹرول سے لیکر مقامی امن و امان، تعلیم و صحت سمیت متعدد امور کلی یا جزوی سطح پر بلدیاتی اداروں کے ذمے ہوتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ مقامی حکومتوں کوکام کرنے کے مواقع دیئے جائیں اور ہو سکے تو ان کے ہر پانچ سال بعد انعقاد کا آئینی شیڈول تیار کر دیا جائے اورہرڈھائی سال بعد ہر بلدیاتی ایوان میں نصف ارکان عوام کے ووٹوں سے آتے رہیں۔ اس سے بلدیاتی اداروں ہی کو نہیں مرکزی و صوبائی اسمبلیوں کو بھی نیا خون ملتا رہے گا۔ اور نہ صرف تعلیم، صحت، صفائی، امن و امان، پرائس کنٹرول، تجاوزات کی روک تھام کے شعبوں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ ہنگامی حالات میں فوری طور پر امدادی کام کرنا آسان ہو جائے گا۔ آج کی دنیا میں، کہ بلدیاتی اداروں کا ماحولیات کے حوالے سے کردار بڑھ گیا ہے، آلودگی سے بچائو کے طریقوں کو فروغ دینا ہوگا جن میں سورج کی روشنی، پانی کی لہروں، ہوا اور دوسرے ماحول درست طریقوں سے بجلی کی تیاری بھی شامل ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ صوبہ سندھ ہی نہیں ملک بھر میں بلدیاتی ادارے کسی رکاوٹ کے بغیر پوری سرگرمی سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے نظر آئیں گے۔
پاکستان کا آم صرف ایک زرعی پیداوار نہیں بلکہ ہماری تہذیب، معیشت اور عالمی شناخت کا حصہ ہے۔ چونسہ، سندھڑی‘...
ملاوٹ جس میں ہو بیجا و بیکاروہ ہے معذور یا مخصوص اردوبہت ہوں جس میں انگریزی کے الفاظ نہ کیوں کہئے اُسے مبروص...
پاکستان بھر میں جاری دہشت گردی، نتہاپسندی، فرقہ واریت اور مذہبی انتشار کیخلاف 79سالہ ملکی تاریخ میں پہلی...
اکثر اوقات کچھ ایسی باتیں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں جن پر سردست یقین کرنا ممکن نہیں لگتا۔ ایسی باتوں کو عام...
ہند و پاک کے دیوبندی علمائے کرام میں سے میدان سیاست میں سب سے بڑا نام ، کام اور مقام حضرت مولانا مفتی محمود...
سونم وانگ چک کا تعلق لداخ کے ایک پسماندہ گاؤں سے ہے۔عمرتقریباً 59برس ہے۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل...
آزاد جموں و کشمیر کی سیاست ہمیشہ جذبات، تاریخ اور عوامی امنگوں کے امتزاج سے تشکیل پاتی رہی ہے۔ یہاں ہونے...
شیکسپیئر کا کہنا ہے ’’یہ ساری دنیا ایک اسٹیج ہے اور تمام مرد و عورت محض اداکار ہیں۔ ہر شخص اپنی باری پر اس...