سندھ ہائیکورٹ، 38 سال قبل الاٹمنٹ کا قبضہ نہ دینے پر چیف سیکرٹری ڈی جی MDA طلب

24 نومبر ، 2022

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سندھ ہائیکورٹ نے 38 سال قبل الاٹمنٹ کا قبضہ نہ دینے پر چیف سیکرٹری سندھ اور ڈی جی ایم ڈی اے کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ جسٹس ندیم اختر نے ریمارکس دیئے کہ بتائیں عدالتی فیصلے پر کیا عمل درآمد کیا؟ ہمیں بتائیں، اب تک عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ عدالتی فیصلہ واضح تھا، مزید کیا تشریح کریں؟ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ 30 نومبر تک تمام قبضے ختم کرکے رپورٹ جمع کرائیں۔ جسٹس ندیم اختر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو سیکٹر 18 اے شاہ لطیف ٹاؤن اسکیم 35 ملیر میں قبضوں سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ 1984 میں پلاٹ کا الاٹمنٹ آرڈر جاری ہوا۔ قبضے والی اراضی پر ایم ڈی اے نے اسکیم جاری کردی۔ جب خریدار پہنچے تو پتہ چلا اراضی پر پہلے سے قبضے ہیں۔ ایم ڈی اے نے متبادل پلاٹ کا وعدہ کیا جو آج تک پورا نہیں ہوا۔ پوری سوسائٹی پر الگ سے قبضے ہیں۔ جسٹس ندیم اختر نے استفسار کیا کہ کہاں ہے چیف سیکرٹری؟ وکیل نے بتایا کہ چیف سیکرٹری حیدر آباد میں مصروف ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ چیف سیکرٹری سندھ اور ڈی جی ایم ڈی اے 30 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔ چیف سیکرٹری کو اجلاس بلانے کا کہا گیا تھا۔ جسٹس ندیم اختر نے کہا کہ درخواست گزار کو متبادل دیں یا معاوضہ۔ عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ اور ڈی جی ایم ڈی اے کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیدیا۔