مسنگ پرنسز سے متعلق درج مقدمات کی تحقیقات تیز کی جائے، ہائیکورٹ

24 نومبر ، 2022

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سندھ ہائی کورٹ نے پانچ لاپتا افراد کے اہلخانہ کی درخواست پر شہریوں کی بازیابی یقینی بنانے کا حکم دیدیا، درخواستوں کی سماعت پر پولیس نے رپورٹ عدالت میں جمع کرادی جس میں کہا گیا کہ لاپتا یاسین، دھنی بخش اور دیگر کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں، جے آئی ٹی اور صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس بھی ہورہے ہیں، پریڈی کے علاقے سے لاپتا فہیم بلوچ واپس آچکا ہے، عدالت نے فہیم بلوچ کی بازیابی سے متعلق درخواست نمٹادی، عدالت نے نیو کراچی سے لاپتا شہری جنید احمد کی درخواست عدم پیروی پر خارج کردی، عدالت نے لاپتا افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے اور مسنگ پرسنز سے متعلق درج مقدمات کی تحقیقات میں تیزی لانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 6ہفتوں کے لیے ملتوی کردی، علاوہ ازیں ہائی کورٹ میں لاپتا افراد کے اہلخانہ کو معاوضہ کی ادائیگی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت کے حکم پر سندھ حکومت نے معاوضہ ادائیگی کی رپورٹ پیش کردی جس میں کہا گیا کہ جبری لاپتا افراد کے اہلخانہ کو 5،5لاکھ روپے معاوضہ ادا کردیا، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ جن لاپتا افراد کی جبری گمشدگی ثابت ہوچکی، ان کے اہلخانہ کو معاوضہ دیا جارہا ہے، وزیر اعلیٰ کی منظوری کے بعد دس افراد کے اہلخانہ کو ادا ئیگی کر دی ، بینک اکاؤنٹس کی تصدیق کے بعد مزید 2افراد کے اہلخانہ کو بھی 5، 5 لاکھ روپے فی کس ادا کردئیے جائیں گے ، 12 افراد کی جبری گمشدگی ثابت ہوئی ہے، عدالت نے پولیس کو لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 18 جنوری تک ملتوی کردی۔