توانائی بحران کے باعث مسائل کا شکار پاکستان اس شعبے میں درپیش مشکلات دور کرنے کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہے اور اس کے لئے ہر اس دروازے پر دستک دینے اور دست تعاون تھامنے کو تیار ہے جہاں سے اسے توانائی بحران سے نکلنے کے لئے مدد ملنے کی امید ہو۔چین کے ساتھ سی پیک منصوبے میں شامل ہونے کا اولین مقصد ہی پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے چین کی مدد سے نئے منصوبے شروع کرنا تھا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے اسی لئے ترکیہ کے دورے میں میزبان ملک کے سرمایہ کاروں کو توانائی کے شعبے میں پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔ استنبول شپ یارڈ میں پاک بحریہ کے لیے ملگیم کارویٹ جہاز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان توانائی کے لئے درکار پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر بہت زیادہ زرمبادلہ صرف کرتا ہے لہٰذا وہ ترکیہ کو دعوت دیتے ہیں کہ آئیں مل کر زیادہ کاربن کے اخراج سے چھٹکارا حاصل کرتے ہوئے درآمدی بلوں کو ختم کریں اور قابل تجدید توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کریں۔ واضح رہے کہ رواں مالی سال جولائی تا اکتوبر پاکستان کی تیل کی کل درآمدات 6.05 ارب ڈالر رہیں جس میں بجلی پیدا کرنے کے لیے فرنس آئل بھی شامل ہے۔ یہ درآمدی بل ایسے وقت میں بڑھا جب درآمدات کے مقابلے میں برآمدات میں کمی کا رجحان غالب ہے۔ تیل کے درآمدی بل کی وجہ سے حکومتی خزانے پر شدید دباؤ ہے۔ ایسے میں دونوں ملکوں کے درمیان شمسی، ہائیڈل اور ونڈ انرجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا مثبت نتائج کا حامل ہوگا۔ قابل تجدید توانائی میں منتقلی کا یہ قدم تجارتی تعلقات کو دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی شراکت داری میں تبدیل کرسکتا ہے۔ پاک بحریہ کیلئے پہلے کارویٹ پی این ایس بابر کی لانچنگ اور دوسرے جہاز پی این ایس بدر کا منصوبہ تزویراتی شراکت میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
فکر مند اِن پُر فتن حالات میںہم ہیں دن رات امنِ عالم کے لئےچین و امریکہ میں صلح و اتحادہے بڑی بات امنِ عالم کے...
پس منظر……مبشر علی زیدیملک میں شہری آزادی ہونی چاہئے، حاشر نے مضمون لکھا۔تم لنڈے کے لبرل ہو، بُوٹے نے طنز...
میں اپنی بات کا آغاز برطانوی راج سے کر رہا ہوں ۔ 17ویں اور 18 ویںصدی میں ہندوستان ساری دنیا کی منڈیوں پر چھایا...
بہت افسوس ہوا تمہارے دوست جیرے پہلوان کی وفات کا سن کر ،بہت پیارا آدمی تھا ! ، ’’ان ہاتھوں سے نہلایا ہے جی...
مشرق وسطی میں گزشتہ دو ماہ سے جاری جنگ کی صورتحال اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے حوالے سے امریکہ اور ایران میں...
اپریل 1957ءمیں پاکستان کا پہلا دستور نافذ ہوئے ایک برس گزرا تھا۔ حسین شہید سہروردی ستمبر 1956 ءسے وزیراعظم تھے...
الحمد للہ ہم نے معرکۂ حق بنیان مرصوص بھی منا لیا۔ اس سے قبل ہم یومِ دفاع، یومِ فضائیہ، یومِ تکبیر اور اس کے...
واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ہونے والی ہر بڑی ملاقات صرف دو ملکوں کی سفارتکاری نہیں ہوتی بلکہ پوری دنیا کے...