PTI، اسمبلیوں سے استعفے کا فیصلہ، حتمی تاریخ کا اعلان مشاورت سے ہوگا، طاقتور اداروں کو بتا رہا ہوں ملک ڈیفالٹ کی طرف جارہا ہے، عمران خان

27 نومبر ، 2022

راولپنڈی ( جنگ رپورٹر،خبر نگار ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے تمام اسمبلیوں سے استعفے کا فیصلہ کیا ہے، حتمی تاریخ کا اعلان مشاورت سے ہوگا، طاقتور اداروں کو بتارہا ہوں ملک ڈیفالٹ کی طرف جارہا ہے،میں چور پکڑتا، اسٹیبلشمنٹ ڈیل کرلیتی، نیب والے کہتے کیس تیار ہے لیکن حکم نہیں آرہا،جس نے اثاثوں میں بڑا اضافہ کیا، عوام کے حقوق کو روندا، اس نے ملک سے کیا کیا، وہ تین لوگ جنہوں نے مجھے قتل کرنیکی کوشش کی آج بھی بڑے عہدوں پر ہیں۔ ہفتہ کی شب لانگ مارچ کے اختتام پرراولپنڈی میں بڑے جلسہ عام کے شرکاء سے خطاب عمران خان نے کہا کہ ہم اس وقت ملک میں کوئی انتشار پیدا نہیں کرنا چاہتے، معاشی حالات پہلے ہی برے ہیں اگر توڑ پھوڑشروع ہو گئی تو حالات مزید خراب ہوجائیں گے، ہم ملک میں تباہی مچانے کی بجائے اس بدعنوان نظام سے ہی باہر نکلیں رہے ہیں ،ہم اسلام آباد نہیں جائیں گے اور نہ ہم اس کرپٹ سسٹم کا حصہ بنیں گے،ہم تمام اسمبلیوں سے استعفوں کا اعلان کرتے ہیں،تمام وزرائے اعلیٰ سے بات کی ہے، پارلیمانی پارٹی سے مشاورت کے بعد تاریخ کا جلد اعلان کرونگا، ہم ایک ایسے بدعنوان نظام کا مزید حصہ نہیں رہنا چاہتے جہاں کرپٹ لوگ اقتدار میں رہ کر اربوں روپے کی چوریاں معاف کروالیتے ہیں۔پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرا ئے اعلی سمیت پارلیمانی پارٹی سے مشاورت مکمل ہونے کے بعد جلد تمام اسمبلیوں سے علیحدگی اختیار کرلیں گے۔ کرپٹ اور چور سیاستدانوں کو این آر او دینے والوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ ایک دن انہیں اللہ کے سامنے جواب دینا ہے ،میری حکومت کی ایک کمزوری تھی کہ طاقتور کو قانون کے تابع نہیں کر سکا لیکن اپنی قوم کو حقیقی آزادی دلانا چاہتا ہوں جس کے لئے خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا، جب تک ادارے اپنی آئینی حدود اور ذمہ داریاں پوری نہیں کریں گے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ادھرپی ٹی آئی کی تمام قیادت اور کارکنوں نے عمران خان کے ساتھ حقیقی آزاد کی جدوجہد میں آخر دم تک ساتھ دینے کا حلف اٹھایا ہے۔عمران خان نے کہا کہ مجھے کہا جا رہا تھا کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے، لیکن وہ 3مجرم جنہوں نے مجھے سازش کرکے قتل کرنے کی کوشش کی وہ ابھی بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں میں نے زخمی ٹانگ کے ساتھ مشکل سے سفر کیا ہے میں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا ہے ،جب مجھے گولیاں لگیں تو گرتے ہوئے میرے سر کے پاس سے گولیاں گزررہی تھیں نوجوان اپنے ایمان کو مضبوط کرلیں کلمہ کا مطلب سمجھیں اللہ تعالی کی مرضی کے بغیر کوئی کسی کو نہیں مار سکتا ہے اور جب اللہ کا فیصلہ آگیا تو موت سے کوئی نہیں بچ سکتاہے، اللہ نے مجھے نئی زندگی دی ہے جس پر میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں،انہوںنے کہاکہ کنٹینر پر 12افراد کو گولیاں لگی تھی اور سب کو اللہ نے بچا لیا، اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ امام حسین کی شہادت تھی یزید کے مظالم کے خوف سے کوئی مدد کو نہ آیا ،گزشتہ 7ماہ میں مجھے ذلیل کرنے کے لیے میری ہر طرح کی کردار کشی کی گئی ہے کیونکہ میںانہیں چور کہتا ہوں، اس سے پہلے کتنے وزیر اعظم آئے، ان کے لیے کبھی قوم باہر نہیں نکلی ہے،ہمارے حکمران ماتحت افسروںسے غلط کام کرواتے ہیں،اور وہ بھی اپنی نوکریاں بچانے کے لیے ہر قسم کے غلط کام کرلیتے ہیں۔ مجھے موت کی دھمکیوں کی کوئی فکر نہیں ہے، زخمی ٹانگ نے مجھے مشکل میں ڈالا ہواہے۔قوم فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے، اللہ نے ہمیں پر دئیے ہیں چونٹیوں کی طرح رینگنا چھوڑ دیں،بند کمروں میں فیصلے کر کے این آر او لیے اور دئیے جاتے ہیں، قوم اگر اس ناانصافی کو تسلیم کرتی ہے تو اس میں اور گائے،بھیڑ اوربکریوں میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔غریب ممالک میں انصاف ناپید ہے، جہاں چور حکمران مسلط ہیں۔تمام خوشحال ممالک میں انصاف رائج ہے، یہی وجہ ہے کہ اوورسیز پاکستانی خوشحال ہیں اورتحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔ خوشحال ممالک کی عدالتیں انصاف کی بنیادوں پر ہی فیصلے کرتی ہیں، عوام کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے ۔ 30سال تک اس ملک پر حکومت کرنے والے دو خاندانوں نے بھی قومی اداروں کو مضبوط نہیں ہونے دیا،بلکہ ریاستی اداروں کو اس لیے کمزور کیا کہ بدعنوانی کے راستے آسان ہوجائیں۔انہوں نے کہاکہ نیب میرے ماتحت نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے کنڑول میں تھی، نیب نے بتایا کہ کیس تیار ہیں لیکن اوپر سے حکم نہیں آرہا ہے اور اسٹیبلشمنٹ ان مجرموں سے سودے بازی میں مصروف تھی، میں نے جب اعتراض کیا تو جواب ملا کہ آپ معیشت کی درستی پر توجہ دیں۔ہم بار بار سنتے ہیں کہ سائفر ایک ڈرامہ تھا ایسا کہنے والے سازش میں شامل تھے،کیا نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں اسد مجید اور ڈونلڈ لو سے سائفر کا معاملہ نہیں اٹھایا گیا تھا۔سائفر کو ڈرامہ کہنا عمران خان نہیں بلکہ ملک وقوم کی بھی توہین ہے۔بیرونی دنیا نے پاکستان پر عدم اعتماد کا اظہار کردیاہے اور 98فیصد سرمایہ کار عدم اعتماد کر رہے ہیں، ہمارالوٹا اپوزیشن لیڈر بن گیا ، ایف آئی اے میں اپنے لوگوں کی تعیناتیاں کروا کے سارے جرائم ہی ختم کروا لیے گئے،جبکہ نیب میں بھی اپنے ہی بندے بٹھا کر تمام مقدمات کی سزا ختم کروالی گئی ہے۔ آج ان لوگوں سے جیلیں بھری ہوئی ہیں جو غربت کے جرم کی سزا بھگت رہے ہیں جبکہ سارے طاقتور اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ25مئی کو ہمارے اوپر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے گئے، انسانی حقوق کی پامالی کی گئی 11سال کے بچے کو جیل میں ڈال دیا گیا،صحافیوں کو دھمکیا ں دی گئی ایاز امیر،سمیع ابراہیم،عمران ریاض،صابر شاکر کے علاوہ جو ارشد شریف کے ساتھ جو کچھ ہواہے ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ عمران خان کے ساتھ تھے، ہمارے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو پکڑا گیا اور انہیں لاپتہ افراد میں ڈالنے کی دھمکیاں دی گئیں، شہباز گل اوراعظم سواتی کے بعد ارشد شریف سے ظلم کیا گیا۔میرے اوپر قاتلانہ حملے کے وقت تین شوٹر زموجود تھے، منصوبے میں یہ شامل تھا کہ حملہ آور کو بھی ادھر ہی قتل کر دیا جائے گا مجھے اندر سے خبر تھی کہ تین لوگوں نے مجھے مارنے کی کو سازش کی ہے،میرے خلاف سازش کرنے والوں کے ذہن میں نہیں تھا کہ باشعور قوم تحریک انصاف کو بھولنے کی بجائے مزید متحد ہوجائے گی،میرے خلاف اس طرح مقدمات درج کیے گئے جیسے میں کوئی مجرم ہوں میرے کارکنوں پر مقدمات درج کیے گئے۔مجھے سانحہ مشرقی پاکستان آج بھی یاد ہے،ہم نے اس وقت بھی ملک کی بڑی جماعت سے انصاف نہیں کیا تھاجس سے آخر کار ملک ہی ٹوٹ گیا اور آج بھی پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے،میڈیا ہائوسز کو دھمکیاں دی گئی ہیں کہ عمران خان کو کوریج نہ دی جائے۔جب تک ادارے آئین میں دی گئی حدودسے تجاوز کرنانہیں چھوڑیں گے اور جب تک عدلیہ،فوجی،اسٹیبلشمنٹ اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرے گی تب تک قومی مسائل حل نہیں ہوں گے،آج ملک پر قبضہ گروپ مسلط ہے، یہ سیاست دان نہیں ہیں ۔انہوںنے کہاکہ کرکٹ کی وجہ سے 30 سال باہر رہنے کے باوجود ایک مرتبہ نہیں سوچا کہ کوئی اور پاسپورٹ لے لوں ،کیونکہ میں اپنے وطن میں خو دداری سے بات کرسکتا ہوں،ملک کو حقیقی آزادی دلانا چاہتا ہوں ،خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا۔ قوم سن لے غلام قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا ہے ،آزادی پلیٹ میں رکھ کر کوئی نہیں دیتاہے بلکہ چھین کر لینی پڑتی ہے۔اعظم سواتی کو اس لیے ننگاکر کے تشدد کیا گیا کہ اس نے کسی فرعون کے خلاف ٹویٹ کر دی تھی۔لانگ مار چ کامقصد یہ تھا کہ امپورٹڈ حکومت سے الیکشن کی تاریخ لی جائے، الیکشن کے بعد ایک مستحکم حکومت سے ہی معیشت اور سیاست مستحکم ہو سکتی ہے۔ لندن سے فیصلے کرنے والا مجرم اس لیے ڈرا ہوا ہے کہ جب الیکشن ہوئے تو اس کی پارٹی ہار جائے گی لیکن اسے پاکستان کے دیوالیہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتاہے، ان کے اربوں ڈالر باہر پڑے ہوئے ہیں یہی معاملہ زرداریوں کا ہے ۔میری کوشش ہے کہ ملک میں سری لنکا والے حالات پیدا نہ ہوں ۔