چین سے تجارتی تعلق ختم ہونےسے جاپانی کمپنیاں بحران سے دوچار ہوجائیں گی:جاپانی ماہر اقتصادیات

27 نومبر ، 2022

ٹوکیو(شِنہوا) جاپانی ماہر اقتصادیات ہیدیتوشی تاشیرو نے کہا ہے کہ اگر جاپانی کمپنیاں چین جیسی سب سے بڑی برآمدی منڈی اوردرآمدات کا ذریعہ کھو دیتی ہیں، تو انہیں ایک حقیقی بحران کا سامنا کرناپڑے گا۔حال ہی میں، جاپان کے اہم ذرائع ابلاغ میں ایسے مضامین شائع ہوئے ہیں جن میں جاپان اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات ختم ہونے کے امکانات اوراس کے نقصانات پر بحث کی گئی ہے۔تاشیرو نے شِنہوا کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ چین جاپان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور چین کا متبادل تلاش کرنا جاپان کے لیے انتہائی مشکل ہوگا۔جاپان کی الیکٹرانک پرزہ جات بنانے والی معروف کمپنی جس کی اپریل 2021 اور مارچ 2022 کے درمیان مجموعی آمدنی کا نصف چین سے تھا، کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسی طرح الیکٹرانک پرزے بنانے والی مینوفیکچرنگ کمپنی کی بھی نصف آمدنی کا انحصار چین پر ہے۔تاشیرو نے کہا کہ چین سے الگ ہونے سے دونوں کمپنیاں تباہی کے خطرے سے دوچار ہوجائیں گی۔