جج کے والدین کی جعلی ویکسی نیشن، ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی کے افسران نے معافی مانگ لی، ذمہ دار کی برطرفی کی سفارش

14 جنوری ، 2022

راولپنڈی(راحت منیر/اپنے رپورٹرسے) لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک جسٹس کے والدین کی بھی جعلی ویکسین رجسٹریشن کا انکشاف ہوا ہے جس پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی کے افسران نے نہ صرف معافی مانگی بلکہ ذمہ دار کو برطرف کرنے کی سفارش کردی، باخبر ذرائع کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جو آج کل لاہور میں تعینات ہیں ،کے والدین کو کورونا ویکسین کی تیسری خوراک کے سلسلے میں ریکارڈ کی چیکنگ کی گئی تو انکشاف ہوا کہ جسٹس کے والد اور والدہ کو تیسری خوراک ٹیکسلا میں لگ چکی ہے جس کا آن لائن اندراج بھی موجود ہے اس پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی کو لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں طلب کرلیا گیا،جمعرات کو اتھارٹی کی سی او ڈاکٹر فائزہ،ڈی ایچ او ڈاکٹر احسان غنی،ڈی ڈی او ٹیکسلاڈاکٹر سائرہ،ٹی ایچ کیو ٹیکسلا کے ایم ایس ڈاکٹر آصف لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں پہنچے جہاں سینئر ایڈیشنل رجسٹرار محمد ارم ایاز،پروٹوکول افسر عدیل اشفاق اور ہائیکورٹ ڈسپنسری کے ڈاکٹر ہارون کیساتھ ملے،اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے حکام نے آئیں بائیں شائیں کرنے کی کوشش کرتے ہوئے معاملہ کی انکوائری کرانے اور ذمہ دار کے تعین کیلئے وقت لینے کی کوشش کی تو ہائیکورٹ انتظامیہ نے تمام متعلقہ ریکارڈ نکال کر سامنے کردیا، اتھارٹی حکام نے دفاعی پوزیشن لیتے ہوئے متعلقہ عملہ کیخلاف کارروائی کی یقین دہانی کراتے ہوئے معافی مانگ لی جس پر انکو کہا گیا کہ تحریری معافی بھجوائی جائے، اتھارٹی کے افسران تحریری معافی نامہ بھجوانے کا وعدہ کرکے ہائیکورٹ سے واپس چلے گے،دریں اثناء ڈاکٹر فائزہ نے بتایا کہ انکوائری کرائی گئی ہے اور متعلقہ ذمہ دار کو نوکری سے برطرف کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔