فرسٹریشن کا شکار ہوکر پرویز خٹک نے رد عمل دیا ،تجزیہ کار

14 جنوری ، 2022

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہےکہ فرسٹریشن کا شکار ہوکر پرویز خٹک نے یہ رد عمل دیا،سینئر تجزیہ کار ،ارشاد بھٹی نے کہا کہ عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ مردم شناسی ہے وہ غیر منتخب افراد میں گھرے ہوئے ہیں ۔ سلیم صافی نے کہا کہ اپوزیشن کی حالت بھی حکومت سے کم پتلی نہیں ہے ادھر بھی اپوزیشن اپنا اپنا دیکھ رہی ہے اور کوئی مشترکہ حکمت عملی نہیں بنا سکے ہیں جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو یہ پارٹی نیچرل طریقے سے بنی نہیں ہے ۔ اقتدار ملنے کے بعد عمران خان نہ تو پارٹی کو اس طرح چلا رہے ہیں جس طرح پارٹیاں چلا کرتی ہیں نہ ہی حکومت کو اس طرح چلا رہے ہیں جس طرح حکومتیں چلا کرتی ہیں۔اگر گزشتہ انتخابات واقعی انتخابات تھے تو پرویز خٹک نے تو ڈیلیور کیا تھااور کے پی کے میں تاریخ ساز کامیابی حاصل کی تھی۔عمران خان کو اعظم خان نے بد ظن کیا تھا تو انہوں نے پرویز خٹک کے ساتھ پہلی زیادتی یہ کی کہ ان کو وزیراعلیٰ نہیں بنایا۔وفاق میں بھی پرویز خٹک کا پرنسپل سیکریٹری کے ذریعے اتنا جینا حرام کیا اور ان کی حیثیت اتنی زیرو کردی تھی کہ ان کے سگے بھائی نے پی ٹی آئی کو خیرباد کہہ دیا اور وزارت بھی چھوڑ دی ۔اب جب سب کچھ خراب ہوگیا توپرویز خٹک کو ذمہ داری سونپی گئی کہ آپ پارٹی سنبھال لیں۔ پرویز خٹک تومحمود خان، عاطف خان، شاہ فرمان کو قابل قبول نہیں ہیں توایسے حالات میں وہ پارٹی کو کیسے ری آرگنائز کرسکیں گے۔فرسٹریشن کا شکار ہوکر پرویز خٹک نے یہ رد عمل دیا ہے صرف پرویز خٹک ہی نہیں بلکہ اس طرح درجنوں وزرااور درجنوں ایم این ایز وہ بھی تیار بیٹھے ہیں۔مجھے اطلاع ملی کہ صرف اس ایک سیشن کے لئے پی ٹی آئی کے سات ایم این ایز نے مسلم لیگ ن سے رابطہ کیا تھا کہ اگر وہ ان کو آئندہ انتخابات کے لئے ٹکٹ دینا چاہتے ہیں تو وہ ووٹ نہ دینے کو تیار ہیں۔سینئر تجزیہ کار ،ارشاد بھٹی نے کہا کہ جب پرویز خٹک نے تلخ گفتگو کی تو عمران خان اٹھ کر جانے لگے یہی عمران خان تھے جب ان کی کوئی تعریف کرتا تھاتو ان کا چہرہ بلش کرتا تھا۔اپوزیشن کو تو چھوڑ دیں وہ تو اپنے وزن پر ہی کھڑی ہوجائے تو یہی کافی ہے اور اپوزیشن اس کا کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ایک طرف یہ اختلافات اچھے ہیں لیکن ہم جب بات کرتے ہیں جمہوریت کی ، اختلاف رائے کی تو اچھی بات ہے کہ بول رہے ہیں۔وزیراعظم کو بات سنا رہے ہیں ورنہ ہمارے ہاں پہلے بادشاہ قسم کے وزیراعظم ہوا کرتے تھے مجال ہے کہ بندہ ان کے ساتھ بول لے۔بول کیوں رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ کے پی اپنے گڑھ میں ہارآنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے ۔ بے یقینی کی صورتحال کہ حکومت جا رہی ہے اپوزیشن دس فیصد کو سو فیصد بناکر پیش کررہی ہے بیڈ گورننس، بیڈ پرفارمنس،عوام کا رد عمل، مہنگائی اہم مسائل ہیں۔پرویز خٹک نے پہلی مرتبہ یہ بات نہیں کی ہے اس سے قبل بھی وہ کہہ چکے ہیں کہ یہ میری وجہ سے سیٹ پر بیٹھے ہیں ۔ پرویز خٹک کے ساتھ عمران خان نے زیادتی بھی کی ہے آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ جیتنے والی ٹیم کے کپتان کو ہٹا دیا جائے ۔عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ مردم شناسی ہے وہ غیر منتخب افراد میں گھرے ہوئے ہیں ۔