پی اے سی ، مرغیوں کے ویسٹ کاتیل کئی ہوٹلوں میں استعمال ہونے کاانکشاف

14 جنوری ، 2022

اسلام آباد( کامرس رپور ٹر ) پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی میں مرغیوں کے ویسٹ(انتڑیوں، سر اور پنجوں) سے بنایا جانے والا تیل کئی ہوٹلوں کے کھانوں میں استعمال ہونے کاانکشاف ہوا ہے، کمیٹی نے پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کو معاملے کا جائزہ لے کر کارروائی کرنے کی ہدایت کر دی۔چیئرمین کمیٹی نے آڈٹ نہ کرانے والے اداروں کی فہرست طلب کرلی۔جمعرات کو کمیٹی کا اجلاس رانا تنویر حسین کی صدارت میں ہوا، جس میں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سال 2019-20 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا، ایاز صادق نے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی حکام سے کہا کہ بھنگ والی سٹوری تو سنائیں؟جس پر حکام نے بھنگ کے حوالے سے ارکان کو بریفنگ دی۔چیئرمین کمیٹی نے آڈیٹر جنرل کے آفس کا آڈٹ کا طریقہ کار طے کرنے کے لئے ایک میٹنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا ، رانا تنویر حسین نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے اداروں میں استعداد ہی نہیں کہ وہ ریسرچ کر سکیں،یہ لیڈنگ منسٹری ہونی چاہیئے، 2018 میں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اداروں کی کیاپوزیشن تھی اس کے بعد کیا پوزیشن ہے؟سب اداروں کے سربراہان لگا دیئے ہیں یا کچھ نشستیں خالی بھی ہیں؟ تین سال ہو گئے ہیں ،ادارے سربراہوں کے بغیر نہیں چلتے ، پروموشنز آپ نے روکی ہوئی ہیں۔ سید حسین طارق نے کہا کہ آج کل چکن کے ویسٹ سے آئل بنا کر کہا جاتا ہے کہ صابن کے لئے دے رہے ہیں لیکن پھر یہی آئل کھانے میں ہوٹلوں میں استعمال ہو رہا ہے، بہت ساری فیکٹریز چل رہی ہیں، ان پر کوئی کنٹرول نہیں،آئل ٹینکر کے اندر بھرا جارہا ہے۔ کمیٹی نے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے کچھ آڈٹ اعتراضات نمٹا دیئے،اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ چیئرمین نیب کو 26جنوری کو کمیٹی میں بریفنگ کےلیے طلب کیا ہے، وزیراعظم آفس نے اس معاملے پر کنارہ کشی کر لی ہے اور دیکھنا یہ ہےکہ چیئرمین نیب خود یا نیب کا کوئی افسر ملوث ہے، اگر یہ چیئرمین نیب نے خود کیا تو کمیٹی اس معاملے پر ریفرنس فائل کرنے پر غور کرے گی اور اگر کو ئی افسر ملوث ہے تو چیئرمین نیب کو اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے، پی اے سی نے آڈیٹر جنرل آفس کا بھی آڈٹ کرانے کی ہدایت کی ہے ،نیشنل بنک سمیت 9سے 10اداروں کے آڈٹ کرانے کی فہرست تیار کی ہے، چیئرمین پی اے سی نے یوٹیلٹی سٹورز پر غیر معیاری خوردنی تیل اور گھی کی فروخت پر شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا۔