گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ ڈالر کے ریٹ کا فرق تبھی ختم ہوگا جب عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا پروگرام مکمل ہوگا پروگرام کی تکمیل پر کرنسی مارکیٹ کے اعتدال پر آنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔اس کے لئے ہمیں آج مشکل فیصلے لینے ہوں گے تاکہ آنے والا کل بہتر ہوسکے۔ اس کے لئے خرچے کم کرنے کی گنجائش نہیں بلکہ آمدنی میں اضافہ کرنا ہوگا۔ان کے مطابق امسال گروتھ کی شرح دو فیصد تک رہنے کا امکان ہے جبکہ امپورٹس کا حجم کم کرنے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارا بھی دس ارب ڈالر سے نیچے لایا جاسکتا گا۔ عالمی کساد بازاری اور مہنگائی کے باعث بیرونی ممالک سے ترسیلات زر میں کمی ہورہی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ تمام بینکس کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ بندرگاہوں پر اترے ہوئے کینٹینرز کلئیر کرنے کے لئے امپورٹرز کی سہولت کاری کریں۔خیال رہے کہ ملکی سیاست میں سرگرم حکومت مخالف عناصر کی منفی سرگرمیوں سے فزوں تر ہوتی سیاسی کشیدگی کے نتیجے میں چھائی بے یقینی کی فضا ملکی معاشیات پر جو برے اثرات مرتب کررہی ہے وہ ملک و قوم کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے اسی بے یقینی کی وجہ سے پاکستان کو درپیش اقتصادی بحران سے نکالنے کے لئے مددگار کے طور پر پیش آنے والے عالمی مالیاتی ادارے کی طرف سے بھی پاکستان کے ساتھ طے شدہ معاہدات پر عمل درآمد کے لئے مزید شرائط لگائی جارہی ہیں جنہیں تسلیم کرنے کی صورت میں پاکستانی عوام مزید مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں جبکہ سعودی عرب اور UAE کی جانب سے دوستانہ امداد بھی عالمی مالیاتی ادارے کی مہربانی سے مشروط کردی گئی ہے ایسے میں ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ معاشی گرداب سے نکلنے کے لئے IMF کی کڑی شرائط کا پھینکا گیا رسہ پکڑ لیں جو حکومت کے گلے کا پھندا بنا چاہتا ہے مگر یہ پھندا چومے بنا اور کوئی چارہ بھی تو نہیں!
کشیدہ کیفیت میں ہے معلّقامید و بیم کے مابین دنیا فریقوں میں مکمل تصفیے تک رہے گی رات دن بے چین دنیا
پاکستان کی سیاست میں اختلاف ہمیشہ سے رہا ہے اور شاید یہی جمہوریت کا حسن بھی ہے۔ حکومتیں بدلتی ہیں، اپوزیشن...
یورپی لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں جانوروں سے بہت محبت ہے۔ حالانکہ میرے نزدیک جانوروں سے محبت میں ہم...
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی ہمیشہ سےپاکستان کیلئے ایک تشویشناک صورتحال رہی...
مولانا فضل الرحمن کے ملک کی صورتحال، سیاسی عدم استحکام ، کے پی اور خصوصاً بلوچستان میں امن و امان کے بگڑتے...
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کیلئے بڑھتی ہوئی آبادی کو روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام کیلئے...
غالب کی عظمت کو تو اردو لٹریچر میں نہ کوئی پہنچ سکا ہے نہ کوئی گہنا سکا ہے لیکن اردو ادب اورانسانیت کی خدمت میں...
’’کیا آج مہنگائی کے دور میں صرف ایک ہزار روپے ماہانہ راشن الاؤ نس پر کسی کا گھر چل سکتا ہے؟یہاں جو ہیلی...