بڑی تباہی کی چھوٹی چھوٹی داستانیں

عرفان اطہر قاضی
25 جنوری ، 2023
(گزشتہ سے پیوستہ)
نوجوانوں کو بڑی تباہی کی چھوٹی چھوٹی داستانوں سے آگاہی دینا اس لئے بھی ضروری ہے کہ جب وہ مستقبل میں ملک کی باگ ڈور سنبھالیں تو انہیں علم ہوکہ اگر وہ پاکستان کی سمت سچے دل سے درست کرنا چاہتے ہیں تو اس میں حائل اصل رکاوٹوں کو دور کرنا کس قدر ضروری ہے۔ پاکستان کی تعمیر و ترقی و معاشی استحکام میں سب سے بڑی تباہی سرکاری بابوؤں نے مچائی اورنااہل سیاست دان اور حکمران ان کے آلہ کار بنے اور اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کرتے رہے۔ حکمرانوں کی مجبوری یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی نااہلی کے باعث سرکاری بابوؤں کے تیارکردہ کسی بھی منصوبے کے اعدادو شمار کے گورکھ دھندے کو سمجھنے یا اس پر نظررکھنے سے بالکل قاصر ہوتے ہیں، اسی لئے بابو لوگ انہیں انگلیوں پر نچاتے چلے جاتے ہیں۔ وفاقی و صوبائی وزرا اور مشیروں کی اکثریت اپنی وزارتوں کےامور کے بارے میں الف ب سے بھی واقف نہیں ہوتی۔ یہاں گھوڑا، گدھا سب ایک برابر نظر آتے ہیں اور بزدار جیسوں پر ہی گزارا کیااور خوب گل کھلانے کا موقع دیا جاتا ہے۔ دنیا اپنے قومی خزانے اور وسائل کو کس کفایت شعاری سے استعمال کرکے اپنی آئندہ نسل کا مستقبل روشن کررہی ہے۔ ایک ہم ہیں اور ایک تنزانیہ کی خاتون صدر سامعہ سلوہو حسن ہیں کہ جنہوں نے گزشتہ سال 9دسمبر کو یوم آزادی کی تقریبات منسوخ کردیں، ان تقریبات کے لئے مختص 4لاکھ 45 ہزار ڈالر کا بجٹ خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کےا سکولوں میں ہاسٹلز کی تعمیر پر خرچ کرنے کی نہ صرف ہدایت کی بلکہ یہ رقم فوری طور پر متعلقہ اسکولوں کی انتظامیہ میں تقسیم بھی کر دی گئی۔ تنزانیہ میں یوم آزادی کی تقریبات ہر ملک کی طرح سرکاری پروٹوکول ، شان و شوکت کے ساتھ منعقد کی جاتی ہیں تاہم یہ پہلا موقع نہیں کہ تنزانیہ نے سرکاری تقریبات منسوخ کیں۔ 2015 ءمیں بھی اس وقت کے صدر بان میگوفول نے یوم آزاد ی کی تقریبات منسوخ کرکے فنڈز دارالحکومت دارالسلام میں سڑک کی تعمیر کیلئے مختص کردیئے تھے۔ 2020 ءمیں بھی انہوں نے ایسا ہی کیا اور یہ بجٹ طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے استعمال کیا گیا۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے خلاف جشن آزادی کے پروگراموں، قومی اسمبلی کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے نام پر 75کروڑ روپے کا ٹیکہ لگانے کی ایک درخواست قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ فاضل عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ای سی سی نے جشن آزادی کے پروگراموںکیلئے 75 کروڑ روپے کی منظوری دی۔ رقم کا زیادہ تر حصہ راجہ پرویز اشرف کے حکم پر قومی اسمبلی کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات پر خرچ ہوا اور معزز اسپیکر نے سیلاب کے دوران اسی رقم سے 25 ارکان قومی اسمبلی کے ہمراہ بیرون ملک دوروں پر یہ رقم خرچ کی۔
پڑھتے جائیے شرماتے جائیے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس درخواست پر محفوظ فیصلہ کب اور کیا سنایا جاتا ہے۔ اگر یہ درخواست قابل سماعت قرار بھی دے دی گئی تو حتمی فیصلہ آنے تک ”کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک“ لیکن ایک بات واضح ہے کہ ان لوگوں کو اس بات کی بھی فکر نہیں کہ پیسے پیسے کو محتاج ملک کے ہرفرد کا ایک ایک بال قرضے میں جکڑا ہوا ہے۔ یہ لوگ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو پروٹوکول، سرکاری سیکورٹی، بیرون ملک دوروں، سرکاری مراعات کے نام پر قومی خزانے کو بے دریغ خرچ کرتے ہیں اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں۔ کاش کوئی ایسا آئے جو اپنے گھر جا کر سوئے اور کھائے۔ عیش و عشرت کی زندگی سے آزاد ہو۔ اس کا جینا مرنا صرف اور صرف پاکستان سے وابستہ ہو۔ بڑی تباہی کی چھوٹی چھوٹی داستانوں میں ایک داستان توانائی بحران کی ہے۔ کرپٹ مافیا نے صرف گزشتہ 13سال میں ملکی خزانے کوشیرِ مادر سمجھے رکھا، صرف اس عرصے کے دوران عوام کو623ارب روپے کا معمولی سا ٹیکا لگایاگیا۔ انہیں شرم آئے نہ آئے آپ بس پڑھتے جائیے کہ پن بجلی منصوبوں، ڈیمز کی تعمیر کی آڑ میں ملکی خزانے کو جو نقصان پہنچایا گیا اور کرپشن چھپانےکیلئے کہیں ٹھیکے غیر قانونی تو کہیں تعمیر میں تاخیر کرکے قومی دولت لوٹی گئی اور توانائی منصوبوں میں کرپشن کی نذر ہونے والی اضافی رقوم عوام کی جیبوں سے نکلوائی جارہی ہیں۔ توانائی سیکٹر کا طاقت ور ترین مافیالوٹ مار بھی کرتا ہے اور انکوائریاں بھی نہیں ہونے دیتا۔ ملاحظہ فرمائیے گومل زامل ڈیم کی لاگت 12ارب 82 کروڑ سے 25 ارب 92 کروڑ تک جا پہنچی۔ اس ڈیم پر اضافی13ارب 9کروڑ روپے کہاں خرچ ہوئے تحقیقات داخل دفتر ہیں۔ اسی طرح منگلا اپ ریزنگ منصوبے کی لاگت62ارب سے 111ارب روپے کردی گئی جس میں 98ارب روپے کی اضافی لاگت بھی اب تک معمہ بنی ہوئی ہے۔ میرانی اور ست پارہ ڈیم جیسے اہم اور سستی توانائی کے منصوبے اداروں کے باہمی تنازعات کے باعث ابھی تک غیر فعال ہیں۔ ست پارہ ڈیم 2 ارب 9 کروڑ کی بجائے 5ارب 32کروڑ میں مکمل کیا گیا۔ دادومیں زیر تعمیر نئی گنج ڈیم کی تعمیری لاگت میں تین گنا اضافہ کر دیا گیا لیکن بڑی تباہی کی چھوٹی چھوٹی داستانوں پر انصاف و احتساب دونوں ہی خاموش رہے۔ آخر کیوں؟ (جاری ہے)