برطانیہ کی معیشت ترقی یافتہ ملکوں سمیت عالمی پابندیوں کا شکار روس سے بھی بدترپوزیشن میں ہوگی

02 فروری ، 2023

لندن (سعید نیازی) برطانیہ میں لوگ رواں برس زندگی گزارنے کے بڑھتے اخراجات کے بحران سے نہیں نکل پائیں گے اور اس سے ملک کی معیشت تمام ترقی یافتہ ممالک بشمول جنگ میں گھرنے کے بعد پابندیوں کے شکار روس سے بھی بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے یہ انتباہ عالمی معاشی ترقی کے تازہ ترین جائزے میں جاری کیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق سابقہ پیش گوئی کے برعکس 2023میں برطانوی معیشت 0.3فیصد بڑھنے کی بجائے 0.6فیصد سکڑے گی تاہم اس کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات کے سبب اب معیشت درست سمت میں جا رہی ہے اور آئندہ برس معیشت 0.6کے بجائے 0.9 فیصد ترقی کرے گی۔ برطانیہ میں تین عوامل کو بدحال معیشت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے جن میں گیس پر انحصار جس کی قیمت روس، یوکرین جنگ کے سبب بے انتہا بڑھی ہے، روزگار کی شرح کا کورونا وبا سے پہلے کی سطح پر واپس لانا اور شرح سود میں مسلسل اضافہ کے سبب لوگوں کا مارگیج بڑھ جانا شامل ہے۔ چانسلر جیریمی ہنٹ نے واضح کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں میں کمی کاامکان نہیں تاہم مہنگائی میں کمی ٹیکسوں میں کمی کے مترادف ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مسائل ہمارے طویل المدتی منصوبوں کو دھندلا نہیں سکتے، اگر ہم مہنگائی کو نصف کرنے کے منصوبے پر قائم رہے توبرطانیہ آنے والے برسوں میں جرمنی اور جاپان سے بھی زیادہ تیزی سے ترقی کرے گا۔ وزیراعظم رشی سوناک نے پہلے ہی رواں برس کے اختتام تک مہنگائی کی شرح میں کمی کا وعدہ کر رکھا ہے جوکہ 40برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچی ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف کے چیف اکنامسٹ پیئر اولیور گورنچس نے کہا ہے کہ برطانیہ گزشتہ برس تک یورپ کی مضبوط ترین معیشتوں میں سے ایک تھی، لیکن مائع قدرتی گیس پر انحصار کے سبب زندگی گزارنے کے اخراجات میںاضافہ کے بعد یہ پیشگوئی کرنا پڑی تاہم اب برطانیہ درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ بنک آف انگلینڈ بھی رواں ہفتہ معیشت کے حوالے سے پیشگوئی کرے گا اورشرح سود میں مزید اضافے کا امکان بھی ہے۔