برطانیہ اور فرانس میں تاریخی مہنگائی کیخلاف لاکھوں افراد سڑکوں پر، تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ

02 فروری ، 2023

کراچی، پیرس (نیوز ڈیسک، رضا چوہدری )برطانیہ اورفرانس میں تاریخی مہنگائی کیخلاف اور تنخواہوں میں اضافے کیلئے لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے ، لندن سمیت برطانیہ میں تاریخی مہنگائی کے خلاف اور تنخواہوں میں اضافے کیلئے بدھ کے روز لاکھوں سرکاری ملازمین نے ہڑتال کردی، ان میں سول ملازمین، ریلوے ڈرائیورز اور اساتذہ بھی احتجاج میں شامل ہوگئے ، اطلاعات کے مطابق ہڑتال میں پانچ لاکھ تک سرکاری ملازمین نے شرکت کی، اس دوران ریل گاڑیوں کی آمد و رفت سمیت ٹرانسپورٹ کا نظام بھی متاثر رہا، تمام اسکول بند رہے جبکہ دیگر شعبوں میں بھی تعطل کا سامنا دیکھنے میں آیا۔ فرانس بھر میں ریٹائرمنٹ و پنشن اصلاحات ، مہنگائی میں اضافے اکے خلاف دوسرے راونڈ کی سخت ہڑتال ، زیر زمین چلنے والے میٹروسمیت ریلوے کا نظام معطل، بس ڈرائیورز کی ہڑتال میں شمولیت سے ٹرانسپورٹ کا مکمل نظام تعطل کا شکار رہا،لاکھوں افراد کو سخت مشکلات کا سامنا رہا ،پیرس سمیت متعدد فرانسیسی شہروں اور قصبوں میں 17 لاکھ لوگ صدر ايمانوئل میکرون کی جانب سے ملک میں پينشن کے حوالے سے متعارف کردہ اصلاحات کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کی مدت میں اضافے کے بجائے تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مغربی و یورپی ممالک کو بھی بدترین مہنگائی کا سامنا ہے ۔ برطانیہ میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین کا مطالبہ ہے کہ ان کی تنخواہوں میں واضح اضافہ کیا جائے، موجودہ آمدنی میں گزارہ کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ ہڑتال کی ایک اہم بات یہ ہے کہ اس میں سرکاری اور مقامی حکومتوں کے زیر انتظام چلنے والے اسکولوں کے اساتذہ بھی شامل ہوچکے ہیں، حالانکہ تعلیمی شعبے کے ملازمین عام طور پر ایسی ہڑتالوں میں شامل نہیں ہوتے۔ اس ہڑتال کے اعلان کے بعد ایک سروے کے نتائج کے مطابق برطانوی عوام کی بڑی تعداد اپنی رائے میں منقسم اور کافی حد تک ہڑتالی ملازمین کی حامی بھی ہے۔ اس سروے میں 40 فیصد رائے دہندگان نے اس ہڑتال کی حمایت کی جبکہ 38 فیصد رائے دہندگان نے اسے غلط اقدام قرار دیا۔دوسری جانب نمائندہ جنگ کے مطابق فرانس کی شاہراہوں سڑکوں پر گھنٹوں ٹریفک جام رہی ، اراس" سے لے کر" نیس "تک، پنشن اصلاحات کے مخالف جلوسوں اور مارچ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی -