سرکاری گاڑی ،کرایہ و نقصان کی وصولی معمہ، دوسری کمیٹی کا آج اجلاس

18 مارچ ، 2023

راولپنڈی(راحت منیر/اپنے رپورٹر سے) سابق ڈسٹرکٹ آفیسر ہیلتھ راولپنڈی ڈاکٹر خالد رندھاوا سے سرکاری گاڑی کی ریکوری اورکرایہ و نقصان کی مد میں88لاکھ25ہزار روپے کی وصولی معمہ بن گئی دوسری طرف ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی دو ہفتے سے بغیر سی ای او کام کررہی ہے۔سابق وزیر صحت پنجاب کی بنائی گئی پہلی انکوائری کمیٹی پر سابق ڈی سی راولپنڈی نے نئی انکوائری کمیٹی بنائی تھی جس کا حتمی اجلاس ہفتہ(آج)ہوگاجبکہ اسی دوران محکمہ صحت پنجاب کی ایک تیسری انکوائری کمیٹی راولپنڈی کا دورہ کرکے اپنی تحقیقات مکمل کرکے لاہور واپس چلی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق اگر آج کمیٹی کے روبرو ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے نمائندے کیس ثابت نہ کرسکے تو امکان ہے کہ کمیٹی ڈاکٹر خالد رندھاوا کو تمام الزامات سے بری کردے گی۔ادھر ذرائع کا دعوی ہے کہ تیسری کمیٹی جو راولپنڈی میں دو دن رہی نے انکوائری کے دوران ڈاکٹر خالد رندھاوا سے تحریری بیان طلب کیا تھا لیکن ڈاکٹر خالد رندھاوا نے تحریری بیان نہیں دیا ۔ذرائع کے مطابق دوسری چار رکنی انکوائری کمیٹی سابق ڈپٹی کمشنر راولپنڈی شعیب علی نے 17جنوری تشکیل دی تھی جس کے چیئر مین ایم ایس بی بی ایچ ڈاکٹر سید طاہر رضوی،اے ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر عرفان الحق،ڈی ایچ او (ایم ایس)ڈی ایچ اے آر اور ڈاکٹر سرفراز خان ٹرانسپورٹ آفیسر ڈی ایچ اے شامل تھےجبکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ تھارٹی راولپنڈی کی طرف سے ریکوری کے احکامات کو معطل کردیا تھاجس کے بعد کمیٹی نے کام شروع کیا تو ایک رکن ڈاکٹر احسان غنی نے شمولیت سے معذرت کرتے ہوئے تحریری درخواست سابق ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو دیدی تھی۔ایک اور رکن ڈاکٹر سرفراز کا تبادلہ ہوگیا تھاجس پر بعد میں نئے نمائندے کی تقرری کی گئی۔واہ جنرل ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر سعادت کو نئی انکوائری کمیٹی کی معاونت کیلئے سابق سی ای او ڈاکٹر انصر اسحاق نے مقرر کیا تھا۔13مارچ کو کمیٹی کے کنوینر ایم ایس بی بی ایچ ہسپتال نے ایک مراسلہ ڈاکٹر سعادت کو بھجوایا تھاجس میں گیارہ سوالات کی وضاحت و ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اٹھارہ مارچ کو کمیٹی اجلاس میں جواب و ریکارڈ نہ فراہم کیا گیا تو کمیٹی دستیاب ریکارڈ پر فیصلہ کردے گی۔ذرائع کے مطابق پہلی انکوائری کے تقریبا تین ماہ بعد نئی چار رکنی انکوائری کمیٹی کانوٹیفکیشن جاری کیاگیا تھا۔نئی انکوائری کمیٹی کی طرف سے جو گیارہ نکاتی سوالات ڈاکٹر سعادت کو بھجوائے گئے ہیں ان میں پوچھا گیا ہے کہ گاڑی کب اور کہاں سے ریکور کی گئی۔گاڑی الاٹمنٹ کی پالیسی کیا ہے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ تھارٹی راولپنڈی سے تمام گاڑیوں کی مینٹی نینس اور مرمت کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کیا اوربھی کوئی گاڑی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے افسر کے علاوہ کوئی اور استعمال کررہا ہے۔کیا دعوی کے مطابق گاڑی ڈاکٹر خالد رندھاوا کے ذاتی استعمال تھی یا سرکاری امور کیلئے استعمال ہوئی۔گاڑی کس مقصد کیلئے فراہم کی گئی تھی۔گاڑی کی سالانہ سٹورویری فیکشن رپورٹ بھی طلب کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق پہلی تین رکنی انکوائری کمیٹی سابق صوبائی وزیر صحت کی ہدایت پر قائم کی گئی تھی جس میں ڈاکٹر عامر شیخ،ڈاکٹر نوید اختر اور محمد احمد خان ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر فنانس شامل تھے۔انکوائری کمیٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ایچ آر ایم اور ایم آئی ایس کی طرف سے سی ای او ہیلتھ کو بھجوائی گئی ایک رپورٹ کے بعد قائم ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ 9جون 2015کو محکمہ صحت پنجاب کی ہدایت پر ڈائریکٹر ہیلتھ راولپنڈی ڈویژن نے تحقیقات کرکے ایک رپورٹ 27جولائی 2015 کو دی تھی کہ جنوری2015سےگاڑی نمبر آر آئی جی1209غیر قانونی طور پرسابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے زیر استعمال ہے۔یہ گاڑی ڈاکٹر خالد رندھاوا کو بطور ڈسٹرکٹ آفیسر ہیلتھ دی گئی تھی لیکن انہوں نے بطور ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چارج لینےکے باوجود گاڑی واپس نہیں کی۔ریٹائرمنٹ کے بعد بھی 29دسمبر2021 کو ایک لیٹر نمبر69کے ذریعےمتعلقہ حکام نے ڈاکٹر خالد رندھاوا کو گاڑی واپس کرنے کیلئے کہا لیکن انہوں نے سرکاری گاڑی واپس نہیں کی۔بعد میں معاملہ وزیر صحت کے نوٹس میں آیا تو ان کے احکامات پر گاڑی واپس لے کر سات سال کے دوران محکمہ کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگانے کی ہدایت کی گئی تھی۔انکوائری کمیٹی کی رپورٹ وزیر صحت،سیکرٹری صحت اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو بھی بھجوائی گئی تھی۔