سٹاک مارکیٹ میں مندا شدت اختیار کرگیا، ملکی سیاسی معاشی حالات اثرانداز

23 مارچ ، 2023

لاہور (سودی) گزشتہ روز بھی سٹاک مارکیٹ شدید مندے کا شکار رہی، آخر میں دو سو سے زیادہ کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی تھی جبکہ انڈیکس اور مجموعی مالیت بھی کم ہو گئی۔ مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز تیزی سے ہوا پھر اتار چڑھائو اور اس کے بعد شروع ہونے والا مندا آخر تک جاری تھا۔ اس دوران انڈیکس میں 120پوائنٹ کا اضافہ بھی ہوا اور 526پوائنٹ کمی بھی۔ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کو مسلسل نقصانات اور ان کی نئی خریداری میں عدم دلچسپی کے باعث گزشتہ روز بھی کاروباری حجم میں اضافہ نہ ہو سکا۔ مارکیٹ پر منفی اثر انداز ہونے والے عناصر میں سٹیٹ بینک کی 4 اپریل کو آنے والی مانیٹری پالیسی میں انٹرسٹ ریٹ میں 2 فیصد یا زائد اضافہ کی خبریں، ملک میں غیر یقینی سیاسی اور معاشی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں میں مایوسی، آئی ایم ایف کا معاملہ کھٹائی میں پڑنا، خام مال کی عدم دستیابی پر مزید تین کمپنیوں کی طرف سے پیداوار بند کرنے کے اعلانات، سرکلر ڈیٹ کا معاملہ موخر ہونے کے باعث آئل اور گیس کمپنیوں کا پریشر میں آنا اور اس کا اثر پوری مارکیٹ پر ہونا اور ملکی سیاسی کشیدگی میں اضافہ شامل تھے۔ گزشتہ روز بینکوں، میورچل فنڈز، بروکروں اور نجی سرمایہ کاروں کی نیٹ سیل تھی جبکہ کمپنیوں، انشورنس سیکٹر اور بیرونی فنڈز نے نیٹ خریداری کی۔ کاروبار کے اختتام پر مارکیٹ انڈیکس 526 پوائنٹ کم ہو کر 40376پر آ گیا۔ 64 کمپنیوں میں اضافہ، 229 میں کمی اور 27 میں استحکام رہا۔ صرف 14 کروڑ 84 لاکھ حصص کا کاروبار ہوا۔