برطانیہ، فروری کے مہینے میں مہنگائی 10.4 فیصد کی ریکارڈ سطح پر رہی

23 مارچ ، 2023

لندن(اے ایف پی) برطانیہ میں فروری کے مہینے میں مہنگا ئی غیر متوقع طور پر زیادہ رہی جس کے بعد اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا بحران مزید شدت اختیار کرگیا ، افراط زر سے مرکزی بینک شرح سود میں اضافے پر مجبور ہوگیا ۔ تین ماہ میں کنزیومر پرائس میں کمی کے بعد فروری میں اس کی شرح 10.4فیصد کی ریکارڈ سطح تک رہی جو گزشتہ 4دہائیوں کی بلند ترین سطح کے قریب تر ہے اور بینک آف انگلینڈ کے مقرر کردہ اہداف سے پانچ گنا زائد ہے ۔ جنوری میں کنزیومر پرائس انڈیکس جنوری میں دس اعشاریہ ایک فیصد اضافہ رہی جس کے بارے میں 9.9 فیصد تک رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا ۔برطانوی حکومت نے گزشتہ ہفتہ پیش گوئی کی تھی کہ رواں برس کے آخر تک مہنگائی 2.9فیصد تک رہنے کا امکان ہے اور ملک کساد بازاری سے بچ جائے گا ۔ یہ پیش گوئی اس وقت کی گئی تھی جب برطانوی وزیرخزانہ جیرمی ہنٹ نے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں پر قابو پانے کیلئے 94پاونڈ یعنی 114ارب امریکی ڈالر کی رقم مختص کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ دوسری جانب ملک میں مہنگائی اور عالمی بینکنگ سسٹم کے بحران کے باوجود بینک آف انگلینڈ نے بدستور شرح سود میں اضافہ کردیا ہے اور اسے بڑھا کر 4فیصد تک کردیا گیا ہے ۔ دسمبر 2021میں برطانیہ میں شرح سود 0.1فیصد کی ریکارڈ کم ترین سطح پر تھی ۔ روس کی جانب سے یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے توانائی اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سے برطانیہ میں مہنگائی شرح 10فیصد سے زائد ہے ۔ برطانیہ میں کیپٹل اکنامکس کے چیف اکنامسٹ پاول ڈیلز کا کہنا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث بینک آف انگلینڈ شرح سود کو کل 4فیصد سے بڑھا کر 4.25فیصد تک کرنے پر مجبور کرسکتا ہے ۔