بینکنگ سیکٹر کے بحران میں امریکا نے شرح سود بڑھا کر 5 فیصد کردی

23 مارچ ، 2023

واشنگٹن (اے ایف پی) امریکا کے مرکزی بینک نے بدھ کے روز شرح سود میں 0.25 فیصد اضافہ کردیا جس کے بعد شرح سود 4.75 فیصد سے بڑھ کر 5 فیصد ہوگیا، امریکی فیڈریل ریزرو کمرشل بینکنگ سیکٹر کو مزید بحران سے بچانے اور مہنگائی کی شرح میں اضافے میں توازن برقرار رکھنے کیلئے کوشاں ہے ۔ امریکی مرکزی بینک نے ایک اعلامیہ میں بتایا کہ بینکنگ سیکٹر میں حالیہ پیش رفت کے نتیجے میں گھریلو اشیا اور کاروباروں کیلئے قرضوں کی شرائط ممکنہ طور پر سخت ہوں گی اور اس کے معاشی سرگرمی، ملازمتوں اور مہنگائی پر بھی اثرات ہوں گے۔ فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کی پالیسی ساز کمیٹی نے کہا ہے کہ مہنگائی میں کمی کیلئے اضافی اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے۔ مرکزی بینک کی جانب سے حالیہ اضافہ فروری میں شرح سود میں اضافے کے برابر ہی ہے۔ یہ اضافہ ایسے موقع پر آیا ہے جب خطے کے تین بڑے بینکوں کے دیوالیہ ہونے کے بعد عالمی معاشی مارکیٹ کو دو ہفتوں سے بحران کا سامنا ہے۔ سیلی کون ویلی بینک اور خطے کے دو دیگر بینکوں کے دیوالیہ ہونے کے بعد سے دنیا بھر کے بینکنگ اسٹاکس کو بحران کا سامنا ہے جبکہ سوئس انویسمنٹ بینک کریڈ سوسی کے شیئرز میں ریکارڈ کمی کے بعد اسے سوئٹزرلینڈ کے سب سے بڑے بینک یو بی ایس نے خرید لیا ہے۔ دوسری جانب امریکی بینک کے فیصلے سے قبل ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں اور یورپی اسٹاک میں تیزی دیکھی گئی جبکہ وفاقی بینک کے شرح سود میں اضافے کے فوراْ بعد ہی وال اسٹریٹ جنرل کے اسٹاکس میں اضافہ ہوا۔ تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکی معاشی ڈیٹا اور بینکنگ سیکٹر میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر شرح سود میں اضافے کا سلسلہ توقع سے زائد ہی رہے گا۔