چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن کے وکیل کے درمیان مکالمہ

30 مارچ ، 2023

اسلام آباد (جنگ رپورٹر)سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی سے مکالمہ کرتے ہوئےریمارکس دیئے کہ بنیادی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین کی تشریح ہو گئی ہے، آرٹیکل 218ـ3 ارٹیکل 224 سے بالاتر کیسے ہوسکتا ہے، سجیل سواتی نے کہا کہ آرٹیکل 218ـ3 شفاف منصفانہ انتخابات کی بات کرتا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ شفاف انتخابات نہیں ہوں گے تو کیا ہو گا؟ سجیل سواتی نے جواب دیا کہ الیکشن شفاف نہ ہوں تو جمہوریت نہیں چلے گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ساز گار ماحول کا کیا مطلب ہے کہ کوئی کسی پر انگلی نہ اٹھائے، چھوٹی موٹی لڑائی جھگڑے تو ہر ملک میں ہوتے ہیں، اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلحہ کا استعمال نہ ہو، اگر معمولی جھگڑا بھی نہیں چاہتے تو ایسا نظام بنائیں لوگ گھر سے ہی ووٹ کاسٹ کریں، سمندر پار پاکستانی ووٹ کا حق مانگتے ہیں، سپریم کورٹ کا حکم بھی موجود ہے، الیکشن کمیشن نے ابھی تک سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ کے لیے کچھ نہیں کیا، حکومت سے پوچھتے ہیں کہ 6 ماہ کا عرصہ کم ہو سکتا ہے یا نہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خیبرپختونخوا ء میں دہشت گردی سے متعلق رپورٹیں سنجیدہ ہیں،فاضل وکیل نے مزید کہا کہ امریکی انخلا ء کے بعد افغانستان سے پاکستان پردہشت گرد حملے کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب نے بھی مختلف علاقوں میں جاری آپریشن کا ذکر کیا ہے،جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کو علم ہے کہ کچے کے علاقوں میں ہر 2 سے 3 روز بعد آپریشن ہوتا ہے، پنجاب میں کچے کا آپریشن کب مکمل ہوگا؟ تو فاضل وکیل نے کہا کہ پنجاب حکومت کے مطابق کچے میں آپریشن مکمل ہونے میں 6 ماہ تک لگ جائیں گے، الیکشن کمیشن کے پاس خفیہ اداروں کی رپورٹوں پر شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ8 اکتوبر کو کون سا جادو ہو جائے گا جو سب ٹھیک ہو جائے گا،جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ 8 اکتوبر کی تاریخ عبوری جائزے کے بعد دی گئی ہے،جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عبوری جائزے کا مطلب ہے کہ انتخابات مزید تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں؟ عدالت کو پکی بات چاہیے۔دوران سماعت ایک وقفہ ہوا جس کے بعد الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی 8 اکتوبر کی تاریخ عارضی نہیں ہے، ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق دھمکیوںکا لیول بڑھ گیا ہے، اگر کچھ علاقوں میں انتخابات کرائیں گے تو ایجنسیوں کے مطابق وہیں دہشتگردی کا فوکس ہو گا،انہوں نے مزید کہ کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ دیانت داری سے انتخابات منعقد کروائے، پرامن اور شفاف انتخابات کا انعقاد بھی الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، عدالتی سوالات پر ہدایات لی ہیں، 8 اکتوبر کی تاریخ بلاوجہ نہیں ہے، ایجنسیوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس دوران انتظامات مکمل کرلیے جائیں گے۔