جولائی تا مارچ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ419ارب روپے بڑھ گیا

09 اپریل ، 2023

کراچی(این این آئی) رواں مالی سال کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں میں 419ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد کل گردشی قرضہ بڑھ کر 2.67ٹریلین روپے ہوگیا ہے نظر ثانی شدہ سرکولر ڈیبٹ پلان سے پتہ چلتا ہے کہ بجلی قیمتوں اور سبسڈیز میں اضافے کے باجود رواں مالی سال کے اختتام تک گردشی قرضہ2.37 ارب روپے رہے گا۔ وزارت خزانہ اور بجلی کے ذرائع کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا فروری تک گردشی قرضوں میں ہر ماہ اوسط 52.4 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہےبجلی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافوں کے باجود حکومت گردشی قرضوں میں اضافے کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ سال جون میں پاور پروڈیوسرز کا قرضہ 1.35 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 1.8 ٹریلین روپے ہوگیا تھا، جس میں رواں مالی سال فروری کے اختتام تک 456 ارب روپے کا اضافہ ہوچکا ہے ۔ فیول سپلائی کرنے والوں کے واجبات میں بھی 99 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ادھر حکومت لائن لاسز اور چوری کی روک تھام کے لیے بھی موثر اقدامات کرنے سے قاصر رہی ہے جو کہ گردشی قرضوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔ گردشی قرضوں میں 232 ارب کا اضافہ لائن لاسز اور پاور ڈسٹریبوشن کمپنیز کی نا اہلی کی وجہ سے ہوا جو کل اضافے کا 55 فیصد ہے۔پاور ڈسٹریبوشن کمپنیز کیے نقصانات کی وجہ سے 59 ارب اور بلوں کے واجبات کی عدم وصولی کی وجہ سے گردشی قرضوں میں 173 ارب کا اضافہ ہوا ۔