بڑھتی لاگت اور سیفٹی تحفظات ،نئے اسمارٹ موٹرویز کے تمام منصوبے ختم کرنے کا اعلان

17 اپریل ، 2023

لندن (سعید نیازی) حکومت نے نئے اسمارٹ موٹر ویز کے تمام منصوبوں کو بڑھتی لاگت اور عوام کے سیفٹی کے حوالے سے تحفظات کا سبب ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے اسمارٹ موٹر ویز کے14منصوبے تیار کیے تھے جن میں11پر پہلے ہی کام رکا ہوا تھا اور تین زیر تعمیر تھے جن پر اب کام ختم کردیا جائے گا۔ اسمارٹ موٹر ویز پر ٹریفک کے بہائو کو جاری رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے اور موٹر وے کی انتہائی بائیں جانب بنی لین جسے یارڈ شولڈر کہا جاتا ہے اسے بھی ٹریفک کے لیے کھول دیا جاتا ہے جبکہ عام موٹر وے پر یارڈ شولڈر پر گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہوتی اور صرف گاڑی خراب ہونے کی صورت میں گاڑی کو ہارڈ شولڈر پر کھڑا کیا جاسکتا ہے۔ اسمارٹ موٹر وے کے ناقدین کے مطابق گاڑی خراب ہونے کی صورت میں ہارڈ شولڈر پر ٹریفک کے تیز بہائو کے سبب خطرناک حادثہ کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اسمارٹ موٹر ویز ملک بھر میں موٹر وے نیٹ ورک کے10فیصد حصے پر مشتمل ہے اور مستقبل میں بھی کام کرتے رہیں گے اور ان پر ہنگامی صورت میں رکنے کے لیے150مزید نئے مقامات بنائے جائیں گے اور ٹیکنالوجی کو بھی مزید بہتر بنایا جائے گا۔ وزیراعظم رشی سونک نے پارٹی کی لیڈر شپ کی مہم کے دوران اسمارسٹ موٹر ویز پر پابندی لگانے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ تمام ڈرائیور اس بات کے مستحق ہیں کہ وہ جن سڑکوں پر سفر کرتے ہیں ان پر اعتماد بھی کریں۔ ڈیپارٹمنٹ فار ٹرانسپورٹ کے مطابق اسمارٹ موٹر وے کے نئے منصوبوں پر ایک بلین پائونڈ کے اخراجات اٹھنے تھے، موٹر وے ایم56پر جنکشن چھ سے آٹھ تک اور ایم6پر21 اے سے 26تک اسمارٹ موٹر وے کی تعمیر جاری رہے گی کیونکہ ان پر پہلے ہی تین چوتھائی سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے۔ موٹرنگ کمپنیوں اے اے اور آر اے سی نے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اے اے کے صدر ایڈمنڈ کنگ نے اس کا من سینس کی فتح قرار دیا ہے آر اے سی کے مطابق اسمارٹ موٹر وے ڈرائیوروں میں انتہائی غیر معقول ہیں۔