پنجاب لاء افسران کی برطرفیوں کیخلاف حکم امتناع جاری کر نیکی استدعا مسترد

19 اپریل ، 2023

اسلام آباد (صباح نیوز)سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سمیت97لاء افسران کی برطرفیوں کیخلاف حکم امتناع جاری کرنے کی اسدعامسترد کردی ،عدالت نے نگران پنجاب حکومت، اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ۔ گذشتہ روز سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس عائشہ اے ملک پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سماعت کی ،عدالت نے نگران پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سمیت 97 لاء افسران کی برطرفی کے خلاف دائر درخواستوں پر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔سپریم کورٹ نے پنجاب کے لا افسران کی برطرفیوں کے خلاف حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا مستردکردی۔ دوران سماعت درخواست گزاروں کے وکیل عابد شاہد زبیری نے استدعا کی کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کو معطل کر کے پنجاب کے برطرف شدہ 97لا افسران کو بحال کردیا جائے، نگران حکومت نے 24جنوری کو جوپہلا حکم دیا تھا وہ پنجاب کے 97لا افسران کی برطرفی تھی اوراسی وقت نئے لا افسران کی تقرری کردی گئی تھی، نگران کابینہ26 جنوری کو وجود میں آئی تھی اوراس سے قبل لا افسران کو برطرف کرنے کااقدام خلاف آئین اورخلاف قانون تھا لہذااس کو کالعدم قرار دیا جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ صرف نوٹسز کررہے ہیں،حکم امتناع جاری نہیں کیا جاسکتا تاہم عدالت نے عابد شاہد زبیری کی استدعا مستردکردی اور کہا کہ معاملہ پر دیگر فریقین کو سن کر فیصلہ کریں گے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ۔