اشیائے ضروریہ کی اسمگلنگ

اداریہ
19 اپریل ، 2023

حکومت نے ملک میں اشیائے ضروریہ بیرون ملک اسمگل کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے ابتدائی طور پر گندم، آٹا، چینی اور کھاد پر مشتمل اشیا ءکی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کو بھاری جرمانوں اور دوسال قید کی سزائیں دینے کا اطلاق کردیا ہے۔ مذکو رہ اشیاء کی اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں انہوں نے متنبہ کیا کہ بیرون ملک اسمگلنگ کسی صورت قبول نہیں اور نہ ہی ملک کی موجودہ معاشی صورت حال اس کی متحمل ہوسکتی ہے۔ ملک کواربوں ڈالر نقصان پہنچانے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ وزیر اعظم نے سپارکو کو ملکی سرحدوں کی رئیل ٹائم سٹیلائٹ امیجری اور آمد و رفت کے ڈیٹا کی فراہمی، فوری آپریشن، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں چیک پوسٹوں کی تعداد بڑھانے، ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کیلئے استعمال ہونے والے گوداموں کے خلاف کارروائی، اینٹی اسمگلنگ کورٹس کو فوری فعال کرنے،انسداد اسمگلنگ کے لئے لائحہ عمل دو دن میں پیش کرنے کی ہدایات جاری کیں ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران پکڑی گئی چینی اور یوریا کھاد کی سرکاری نرخ پر فروخت یقینی بنائی جائے، بین الاقوامی بارڈر پر ایماندار افسر تعینات کئے جائیں۔ اجلاس میں ایف بی آر، وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا ہزاروں ٹن چینی ، یوریا ضبط اور سرحدی اضلاع میں ذخیرہ اندوزی والے 740 گوداموں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ایف بی آر حکام کے مطابق کسٹم ایکٹ کے تحت اسمگل شدہ آئیٹم کی مجموعی مالیت کے برابر جرمانہ عائد ہوا کرے گا۔ وزیراعظم کی جانب سے اسمگلنگ روکنے کیلئے سخت اقدامات ناگزیر ہیں کیونکہ اس سے اشیاء کی مصنوعی قلت پیدا ہوتی ہے جس سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ قیمتوں میں فرق اس کی بنیادی وجہ ہے۔


اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998