پاکستان پر غیرملکی قرضہ بڑھ کر 136 ارب ڈالر تک جاپہنچا

19 اپریل ، 2023

اسلام آباد (رپورٹ حنیف خالد)پاکستان کا غیر ملکی قرضہ بڑھ کر ایک سو چھتیس ارب ڈالر پر چلا گیا ہے اس میں صرف چین کا پاکستان کے ذمے قرضہ 30 ارب ڈالر جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا پاکستان پر قرضہ 7 ارب 80 کروڑ ڈالر ہے اس طرح آئی ایم ایف کے 7 ارب 80 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں چین کا پاکستان پر قرضہ 3 گنا زیادہ ہوگیا ہے اور چین کا پاکستان پر قرضہ جوکہ 30 ارب ڈالر ہے یہ رقم عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے پاکستان پر مجموعی قرضے سے بھی زیادہ ہے’18 فروری 2023 کو آئی ایم ایف مشن کے نویں جائزے کے آخری روز سٹاف لیول معاہدے پر مشن نے پاکستان کے ساتھ جو دستخط کرنے تھے کیونکہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی شرائط بشمول ٹیکسوں میں اضافہ بجلی کی قیمتیں بڑھانے اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کی 25 سالہ تاریخ میں پہلی بار پالیسی ریٹ 20 فیصد سے زیادہ کرنے جیسی سخت ترین شرائط کے نتیجے میں اور آج یوکرین روس جنگ سے پیدا شدہ صورتحال کے باعث ضروری اشیا کی قیمتوں میں تاریخ ساز اضافے کے علاوہ آئی ایم ایف کی بڑی شرائط کی بنا پر ہونے والی مہنگائی سے عوام بلبلا رہے ہیں آئی ایم ایف سے بڑی شرائط کا معاہدہ پی ٹی آئی حکومت کے سربراہ عمران خان نے کیا وہ خود تو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ توڑ کر چلتے بنے مگر اپریل 2022 میں پی ٹی آئی حکومت پر عدم اعتماد کے فوری بعد بننے والی اتحادی حکومت اب یہ بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ ایک امریکی بینک کا کہنا ہے کہ اب چین ہی پاکستان کے معاشی بحران کو ٹال سکتا ہے کیونکہ چین اور پاکستان کے انتہائی قریبی تعلقات ہیں جبکہ آئی ایم ایف پاکستان پر سخت شرائط کا اطلاق کر رہا ہے۔ چین نے پاکستان کا دو ارب ڈالر کا قرضہ رول اوور کیا اور اب ایک چینی بینک نے چندہفتوں میں ایک ارب 30 کروڑ کا کمرشل قرضہ بھی فراہم کیا۔ اگر آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ مزید تاخیر کے بغیر سٹاف لیول معاہدے پر دستخط نہ کئے تو پاکستان کیلئے مزید دشواریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔