راولپنڈی(ناصر چشتی/خصوصی نمائندہ) ڈاکٹر جمیل جالبی ایک مکتبہ فکر تھے انکی شخصیت ہمہ جہت تھی انکی اردو ادب کیلئے خدمات تاریخی میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھی جائیں گی ہمیں آنیوالی نسلوں کونہ صرف انکے مقام سے آشنا کرانا ہے بلکہ انکے کئے گئے کام کو آگے لیکر جانا ہے اردو کو قومی زبان کا درجہ دلانے کیلئے بھی انکی خدمات کبھی فراموش نہیں کی جا سکتی، ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی اور جمیل جالبی فائونڈیشن کے زیراہتمام انکی برسی کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے ماہر تعلیم ،پروفیسراور ادیبوں نے خطاب کرتے ہوئے کیا، سیمینار کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمداختر وائس چانسلر قائداعظم یونیورسٹی نے کی جبکہ ڈاکٹر جمیل جالبی کے صاحبزادے ڈاکٹر محمد خاور جمیل وفاقی محتسب انشورنس پاکستان نے خصوصی شرکت کی ، پروگرام کے میزبان واصف ناگی نے کہا کہ ڈاکٹر جمیل جالبی ایک ماہر تعلیم، ماہر لسانیات ادیب شاعر اور ہمہ جہت شخصیت تھے انکی خدمات کی فہرست طویل ہے ،محبوب ظفر نے کہا کہ اردو ادب کی تاریخ ایک بڑا کارنامہ ہے، اچھے لوگ نظروں سے اوجھل ہو رہے ہیں بڑے لوگ ایک ایک کر کے بچھڑ رہے ہیں انکی تصانیف اور انکو ملنے والے اعزاز کی لمبی فہرست ہے اردو ادب میں جو تحقیق کا کام انہوں نے کیا اور کہیں نظر نہیں آتا انہوں نے میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی اور جمیل جالبی فائونڈیشن کا سیمینار کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا، پروفیسر ڈاکٹر ثروت رسول نے کہا کہ وہ ماہر زبان تھے انکی کمی کو ہمیشہ محسوس کیا جائیگا، پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر نے کہا کہ وہ ایک صوفی اور درویش تھے ایسے پروگرام جامعات میں ہونے چاہئیں تاکہ نئی نسل انکے کارناموں سے آگاہ ہو ، ڈاکٹر راشد حمید نے کہا کہ انہوں نے اردو ادب کی جو تاریخ مرتب کی ہے جو کام کیا ہے آج تک نہیں ہوا انہوں نے ہمیشہ مثبت رویوں کو اجاگر کیا، حامد میر نے کہا کہ ڈاکٹر جمیل جالبی کے جو مقاصد تھے آج کے حالات میں انکی اہمیت اور بڑھ گئی ہے انکا مقصد اتحاد اور یکجہتی تھا وہ اردو کودفتری زبان بنانا چاہتے تھے وہ آئین کے آرٹیکل 251کی بات کرتے تھے کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہونی چاہئے ،پروفیسر ڈاکٹر اقلیمہ ناز نے کہا بھارتی دانشور کہتے ہیں کہ آپ نے اردو کو زندہ رکھا ہوا ہے ، ڈاکٹر جمیل کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ،ڈاکٹر خاور جمیل نے کہا کہ انہوں نے مختلف جہتوں میں بہت کام کیا میری کوشش ہے کہ انکا نا مکمل کام مکمل ہوجائے، پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا کہ وہ ایک ادارہ تھے ، صوفی اور درویش تھے حامد میر نے جو بات کہی ہے ہمیں اس کو آگے لے کر جانا ہے، ڈاکٹرنجیہ عارف نے کہا کہ یہ کام ہم نے کرنا تھا مگر فائونڈیشن اور جنگ گروپ نے کفارہ ادا کر دیا ۔
مظفرآبادچیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر غلام مصطفی مغل نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں الیکشن بروقت ہوں گے، تمام...
راولپنڈیپاکستان ملٹری اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے شعبے میں ڈپٹی کنٹرولرز ملٹری اکائونٹس اوکاڑہ، پنو عاقل اور...
اسلام آ باد این ڈی ایم اے کا 19 تا 23 جولائی کے دوران مشرقی اور مغربی دریاؤں و ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی...
لاہور فیفا ورلڈ کپ، انگلینڈ کی 60 سال بعد ٹاپ 3میں جگہ ، فرانس کی چوتھی پوزیشن۔ تیسرے نمبر کے پلے آف میں...
اسلام آباد سہالہ،اٹک ریفائنری پائپ لائن سے تیل چوری کی بڑی کوشش ناکام، رات گئے قانون نافذ کرنے والے اداروں...
سیالکوٹمعروف شاعر ساغر صدیقی کی 51 ویں برسی منائی گئی ۔ساغر صدیقی نے 16 سال کی عمر میں جالندھر، لدھیانہ اور...
لاہور وفاقی چیمبر کی ریجنل کمیٹی برائے فوڈ کے کنوینر شاہد عمران کی قیادت میں جنوبی پنجاب کے فوڈ ایکسپورٹرز...
لاہورآل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا...