سیاسی ڈائری،آئندہ اڑتالیس سے 72 گھنٹے انتہائی اہم ہوں گے

19 اپریل ، 2023

اسلام آباد(محمدصالح ظافر ،خصوصی تجزیہ نگار)عدلیہ اورملک کے سب سے مقتدر ادارے پارلیمنٹ کے درمیان رسہ کشی کا فیصلہ کن مرحلہ آن پہنچاہے آئندہ اڑتالیس سے بہتّر گھنٹے اس میں انتہائی اہم ہوں گے ۔ عدالت عظمیٰ کے سہ رکنی بنچ نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات 14مئی کوکرانے کا حکم صادرکرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے مطالبات پورے کرنے کی غرض سے جو احکام صادرکئے تھے ان کے حوالے سے رپورٹ پیش کردی گئی ہے اس میں صاف طور پرآگاہ کر دیاگیا ہے کہ کمیشن کی کوئی ضرورت پوری نہیں کی گئی اس طرح عدلیہ کے سربراہ کو محتاط لفظوں میں آگاہ کردیاگیاہے کہ عدالت کی مقررکردہ تاریخ پر ان انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہوگا۔ رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد عدالت نئی ہدایت جاری کرے گی اس پر یہ تو عیاں ہو گیا ہے کہ اس کا حکم رد کردیا گیا ہے ، اب یہ تو ممکن نہیں کہ عدالت اسٹیٹ بینک کی قائم مقام گورنر کو حکم دے کہ وہ آج یا کل چیک بک لیکر عدالتی دہلیز پر پہنچ جائے اورنہ ہی وہ الیکشن کمیشن کو حکم دے سکتی ہے کہ وہ وسائل دستیاب نہ ہونے کے باوجود ’’روحانیت‘‘ کے زور پر انتخابات کرادے اسے کمیشن کی اس سفارش پرسنجیدگی سے غورکرنا پڑے گا کہ پورے ملک میں عام انتخابات ایک ہی دن کرادیئے جائیں ۔ آئینی ماہرین کا خیال ہے کہ اگرعدلیہ نے بازپرس کے لئے توہین کی کارروائی کا سہارا لیا تو پارلیمنٹ یقیناً کوئی غیرمعمولی قدم اٹھانے پرمجبور ہوگی جس سے عدالتی ممدوح بہت دل گرفتہ ہوں گے ، یوں عدلیہ اور ملک کے سب سے مقتدر ادارے پارلیمنٹ کے درمیان رسہ کشی کا فیصلہ کن مرحلہ آن پہنچاہے ۔