سپریم کورٹ نے پنجاب اور کے پی کیلئے دہرا معیار رکھا ہے،تجزیہ کار

19 اپریل ، 2023

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان علینہ فاروق شیخ کے سوال کیا اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات درست ہیں؟ کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا کہ سپریم کورٹ 90دن میں انتخابات کے معاملہ پر پنجاب اور خیبرپختونخوا کیلئے دہرا معیار رکھا ہوا ہے، پنجاب کے الیکشن کیلئے بات کی جارہی ہے خیبرپختونخوا کیلئے کوئی فیصلہ کیوں نہیں کیا جارہا ہے، سیاست میں فوج کی مداخلت ایک رات میں ختم نہیں ہوسکتی اس کیلئے طویل جدوجہد کرنا ہوگی۔ ارشا دبھٹی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن تسلیم کرچکے ہیں کہ وہ جنرل فیض حمید سے ڈیل کر کے دھرنا اٹھا کر گئے تھے، سویلین بالادستی اور ووٹ کو عزت دو والوں کا حال یہ تھا کہ عمران خان سے نہیں جنرل فیض حمید سے مذاکرات ہورہے تھے، ن لیگ والوں کے منہ سے معیارات، میرٹ، جونیئر سینئر بہت عجیب لگتا ہے، ن لیگ نے کوئی ادارہ ایسا نہیں چھوڑا جہاں میرٹ کی خلاف ورزی نہ کی ہو، سپریم کورٹ کے دو جونیئر جج صاحبان ن لیگ کے ہم خیال نہیں ہیں اس لیے انہیں معیارات یاد آگئے، اعظم نذیر تارڑ کو جونیئر جج قبول نہیں تھے تو انہیں ووٹ دینے سے پہلے مستعفی ہوجانا چاہئے تھا۔سہیل وڑائچ نے کہا کہ جنرل باجوہ ری کنسی لی ایشن چاہتے تھے اس کی وجہ سے وزیرقانون نے جونیئر ججوں کے حق میں ووٹ دیا، اب وہی جونیئر ججز حکومت کیخلاف استعمال ہورہے ہیں تو ن لیگ کو تکلیف ہورہی ہے، سپریم کورٹ کو پنجاب اسمبلی کے الیکشن ملتوی کر کے اکتوبر میں اکٹھے الیکشن کیلئے تیار کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ریما عمر کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کے سچ نے بتادیا کہ اتحادی حکومت نے کیسے کیسے سمجھوتے کیے ہیں، ججوں کی تقرری کے وقت بھی کچھ ججز اس پورے عمل کی شفافیت پر سوال اٹھارہے تھے، وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے سمجھوتہ کر کے ایسے ججوں پر اتفاق کرلیا جنہیں میرٹ پر نہیں سمجھتے تھے، اس وقت جیوڈیشل کمیشن کے رولز میں تبدیلی لانے کا اچھا موقع تھا،اعظم نذیر تارڑ کی یہ بات درست نہیں کہ آئین میں 90دن میں الیکشن کروانا ضروری نہیں ہے، آرٹیکل 224 واضح طور پر کہتا ہے کہ اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90دن میں الیکشن کروانا ضروری ہے، سپریم کورٹ 90دن میں انتخابات کے معاملہ پر پنجاب اور خیبرپختونخوا کیلئے دہرا معیار رکھا ہوا ہے، پنجاب کے الیکشن کیلئے بات کی جارہی ہے خیبرپختونخوا کیلئے کوئی فیصلہ کیوں نہیں کیا جارہا ہے، سیاست میں فوج کی مداخلت ایک رات میں ختم نہیں ہوسکتی اس کیلئے طویل جدوجہد کرنا ہوگی۔ سلیم صافی نے کہا کہ پاکستان کا نام اسلامی جمہوری پنجاب رکھ لیا جائے تو بہتر ہوگا، حکومت ہو یا عدلیہ کسی کو پنجاب کے علاوہ کسی صوبے کی فکر نہیں ہے، حکومتی اتحاد جس اسمبلی کو جعلی کہتا تھا آج اسی اسمبلی میں سرجھکا کر بیٹھا ہے، حکومت میں بیٹھے لوگوں کا کوئی اخلاقی معیار نہیں ہے لیکن جج صاحبان کیلئے ہائی مورال گراؤنڈ ضروری ہے، سپریم کورٹ الیکشن پر ازخود نوٹس نہ لیتی تو شاید لاہور ہائیکورٹ اب تک 90دن میں انتخابات کے اپنے حکم پر عملدرآمد کرواچکی ہوتی، کیا کسی چیف جسٹس کو زیب دیتا ہے کہ وہ ججوں کی تقرری کیلئے آرمی چیف کو گارنٹیئر بنائے، مولانا فضل الرحمٰن دھرنے کے دوران آرمی چیف سے بات کر کے کچھ غلط نہیں کیا تھا کیونکہ حکومت اصل میں فوج ہی چلارہی تھی۔